اشاعت کے باوقار 30 سال

بھارتی فوجی افسران اور جوان کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ

بھارتی فوجی افسران اور جوان کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ

بھارتی فوجی افسران اور جوان اپنی زندگیوں کا خاتمہ خود کرنے لگے ہیں۔ 2009ء سے اب تک 9 برسوں میں ایک ہزار 22 بھارتی فوجیوں نے خودکشی کی۔ 2014ء سے 2017ء کے درمیان 425 جبکہ 2009ء سے 2013ء کے درمیان 597 فوجیوں نے اپنے آپ کو مار ڈالا۔ گزشتہ چار برسوں میں آرمی میں نو افسران اور 26 ایئر مینوں نے خودکشی کی۔ اس عرصے میں بحریہ میں سب سے کم خودکشیاں دیکھنے میں آئیں جہاں دو افسران اور 16 سیلرز نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ گزشتہ چار برس میں مسلح افواج میں خودکشی کے واقعات کے یہ اعداد و شمار بھارتی پارلیمنٹ کے سامنے رکھے گئے۔ وزیر مملکت برائے دفاع سبھاش بھامر کے مطابق 2014ء میں 109، 2015ء میں 95، 2016ء میں 129 اور رواں برس میں 92 فوجیوں نے خودکشی کی۔ رواں ماہ کے آغاز میں بھارتی اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بھارت میں ہر سال 1600 فوجی جوان جنگ کا حصہ بنے بغیر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر تعینات بھارتی فوجی دستوں کے حوصلے ٹوٹ رہے ہیں جن کی چھ بڑی وجوہات ہیں۔ جن میں سے ایک مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے ہونے والا ڈیپریشن ہے۔ دوسرا بارڈر ایریا میں تعینات فوجیوں کو صرف دو فیصد الاؤنس ملنا۔ تیسرا بھارتی فوجیوں کے ہلاک و زخمی ہونے کے واقعات میں اضافہ۔ چوتھا گھر سے دوری اور بے چینی۔ پانچواں بھارتی فوجی افسروں کا فوجی جوانوں کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اور چھٹی وجہ فوجی جوانوں کی چھٹیوں کی درخواستوں کو عموماً مسترد کرنا بھی بھارتی فوجیوں کی حوصلہ شکنی کا بڑا سبب ہے۔ اسی تناظر میں بھارتی فوجیوں میں خودکشیوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ جس کی ایک مثال ماضی میں مشرقی لداخ کے علاقے سامبا میں 16 ایسٹ کیولیری کے ایک سپاہی نے اپنی سرکاری بندوق سے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی جس کے بعد باقی سپاہی مشتعل ہو گئے اور انہوں نے بھارتی فوجی افسروں اور اعلیٰ حکام کے خلاف سخت نعرہ بازی کی۔ خودکشی کرنے والے اہلکار ارن وی کا تعلق بھارتی ریاست کیرالہ سے تھا۔ جو ضروری کام کی وجہ سے چھٹی جانا چاہتا تھا لیکن اس کی تمام تر منت سماجت کے باوجود اسے چھٹی نہیں دی گئی جس پر مایوس ہو کر اس فوجی نے خودکشی کر لی جس کے بعد اس کے ساتھی مشتعل فوجیوں نے افسران کو ان کے دفتر کے اندر تالے لگا کر بند کر دیا جبکہ بعض افسران نے خود کو اپنے دفاتر میں چھپا لیا۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول کی ناکامی کا یہ عالم تھا کہ نویں کور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اے کے بھالا مشتعل فوجیوں کی آنکھوں میں نفرت کے شعلے دیکھ کر جائے واردات سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ 16 کیولیری کے تمام افسران اپنی رہائش گاہوں سے بھاگ کر مختلف میسوں میں جان بچانے کے لئے جا پہنچے۔ فوج کے دو یونٹ ہنگامی طور پر سامبا پہنچے تاکہ صورتحال کو قابو میں لایا جا سکے۔ سابق بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی نے اعتراف اور انکشاف کیا تھا کہ 2003ء سے لے کر جولائی 2012ء تک 1028 بھارتی فوجیوں نے خودکشیاں کی ہیں۔ یہ بات انہوں نے راجیا سبھا میں ایک تحریری جواب میں کہی ہے۔ یاد رہے کہ 1.13 ملین بھارتی فوج میں دوسرے ساتھی کو زخمی یا ہلاک کرنے یا خود کشی کے واقعات معمول کے واقعات بنتے جا رہے ہیں۔ ڈیفنس انسٹیٹیوٹ آف سائیکالوجیکل ریسرچ کے مطابق بھارتی فوج کے اعلیٰ افسروں کی طرف سے جوانوں کو ہراساں کرنا، ان کی بے عزتی اور ان کے ساتھ غیر انسانی رویے اپنانے کے نتیجے میں جوان فوجیوں میں خودکشی کے یہ واقعات ذہنی تناؤ اور دباؤ کا نتیجہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارت کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے فوجیوں کی اکثریت ایک بے مقصد جنگ سے تنگ اور ذہنی طور پر شکست خوردہ اور مایوس ہے کیونکہ انہیں کسی بھی وقت کسی طرف سے بھی کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے خوف اور دباؤ میں مسلسل رہنے، گھر سے دوری، چھٹیاں نہ ملنے کی وجہ سے گھریلو مسائل میں اضافہ اور بے چینی جیسے واقعات بھارتی فوجیوں میں خودکشی کے رجحان کو فروغ دیتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں آزاد کشمیریوں کو کوئی فتح نہیں کر سکتا۔ بھارتی دانشور ارون دتی کے مطابق مقبوضہ وادی میں کشمیری آزاد ہو چکے ہیں۔ آزادی کی اس تحریک کو کچلنے اور آزادی کے متوالے کشمیریوں کو دبانے کے لئے بھارت نے بڑے پیمانے پر فوج اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس کو تعینات کر رکھا ہے مگر بھارتی فوج اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں میں یہ احساس زور پکڑتا جا رہا ہے کہ ان کو ایک ایسی بے مقصد جنگ میں جھونک دیا گیا ہے جس میں کبھی فتح حاصل نہیں ہو گی۔ ہر وقت کسی بھی سمت سے اچانک آزادی کے پروانوں کا دھاوا اور انجانی گولی کا خوف ان کے دن کا چین اور رات کی نیند حرام کئے ہوئے ہے۔ بھارتی سیکورٹی اہلکار یہ بھی جانتے ہیں کہ کشمیری اپنی آزادی کی جائز جدوجہد کر رہے ہیں جن کا قتل عام انسانی مقام و مرتبے کے سراسر منافی ہے۔ انہیں یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ ہزاروں کشمیریوں کو لاپتہ افراد کی صورت میں غائب کر دینے کے باوجود تحریک آزادی کشمیر میں کمی نہیں آئی اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کمشنر ناؤتی تھم یلے بھی واضح کر چکی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں لاپتہ افراد کے کیسز کے سلسلہ میں بھارتی حکومت نے مطلوبہ پیمانے پر تفتیش نہیں کی اور دلچسپی نہیں لی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اپنے عروج پر ہیں۔ بھارتی سیکورٹی اہلکار اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہزاروں لاپتہ نوجوان کشمیری انہوں نے اعلیٰ افسران کے حکم پر کس طرح قتل کرکے اجتماعی قبروں میں دفنا دیئے گئے جن کا پتہ کسی آرمی کیمپ کے خالی کئے جانے کے بعد شاید لگ سکے۔ بالکل اسی طرح جس طرح کچھ عرصہ قبل اوڑی سیکٹر کے پاس بھارتی فوج کے خالی کئے جانے والے کیمپ سے کشمیریوں کی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی تھیں۔ بھارتی سیکورٹی اہلکاروں کو انسانی حقوق کا قاتل ہونے کا احساس جرم چین نہیں لینے دے رہا۔ دوسری طرف جب وہ گھروں سے دور بے مقصد جنگ سے چھٹکارا نہ سہی وقفہ حاصل کرنے کے لئے چھٹی مانگتے ہیں تو افسران انہیں چھٹی نہیں دیتے جس کے نتیجے میں بھارتی فوج اور سیکورٹی اہلکاروں کا ایک دوسرے فائرنگ، خودکشی، فوج، پولیس اور سیکورٹی اداروں سے فرار معمول بنتا جا رہا ہے۔ اب تک مشتعل ہو کر سیکورٹی اہلکاروں کی ساتھیوں پر فائرنگ اور خودکشیوں کی ان گنت واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران مصدقہ اطلاعات کے مطابق 127 بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں خودکشی کر چکے ہیں جبکہ 2009ء میں مارچ کے آخری ہفتے میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے سب انسپکٹر سمیت دو فوجی اہلکاروں نے خودکشی کر لی ہے۔ سی آر پی ایف کی 110 بٹالین کے کیمپ میں ایک افسر نے ضلع پلوامہ کے علاقے پانپور جبکہ ایک اہلکار نے جموں کے علاقے گروٹہ میں اپنی سروس رائفلوں سے گولیاں مار دیں جس سی وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ اس طرح مقبوضہ کشمیر میں جنوری 2007ء سے اب تک خود کشی کرنے والے بھارتی فوجی اہلکاروں کی تعداد 127 تک پہنچ گئی ہے۔

loading...