اشاعت کے باوقار 30 سال

بھارت غلط فہمی میں نہ رہے

بھارت غلط فہمی میں نہ رہے

بیجنگ: چین نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی فوج کو قابو میں رکھے اور سرحدی معاہدوں پر عمل کرے۔ بھارتی نیوز ویب سائٹ نیو انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق چینی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل رین نے ڈوکلام تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی سرحدی دستوں کو قابو میں رکھنا بھارت کی ذمہ داری ہے، ساتھ ہی جو معاہدے ہوئے ہیں ان پر عمل بھی کیا جائے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ چینی فوج نے 2017ء میں اپنے علاقے کا پورے عزم سے دفاع کیا ہے۔ ترجمان کرنل رین نے کہا کہ چینی فوج، بھارت کے ساتھ ڈوکلام تنازع سے نمٹنے کے لیے پر عزم ہے، ساتھ ہی بحیرہ جنوبی چین میں بھی اپنے اقتدار اعلیٰ کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری طرف بھارت کا کہنا ہے کہ وہ کیملاش مان سرور یاترا کے لیے چین سے رابطے میں ہے ۔ جو 2017ء میں ڈوکلام تنازع کی وجہ سے نہیں ہوسکی تھی۔ یاد رہے کہ رواں برس جولائی میں ڈوکلام کے علاقے میں ایک سڑک کی تعمیر کے معاملے پر چینی اور بھارتی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئی تھیں۔ یہ علاقہ بھارت کے شمال مشرقی صوبے سکم اور پڑوسی ملک بھوٹان کی سرحد سے ملتا ہے، اس علاقے کی ملکیت کے حوالے سے بھوٹان اور چین کا تنازع کافی عرصے سے جاری ہے، جب کہ بھارت بھوٹان کی حمایت کرتا ہے۔ رواں برس جولائی میں چین نے یہاں سڑک کی تعمیر شروع کی، جس کے بعد بھوٹان کی حمایت میں بھارت نے یہاں اپنی فوجیں بھیجیں تاکہ نئی سڑک کی تعمیر کو روکا جا سکے۔ بعد ازاں اگست کے آخر میں بھارتی فوج نے تنازع ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے فوجی اہل کاروں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ اس حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ بیجنگ سے مذاکرات کے بعد ’مفاہمت‘ طے پا گئی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان ریاست آروناچل پردیش کے معاملے پر 1962 میں ایک جنگ ہو چکی ہے۔

loading...