اشاعت کے باوقار 30 سال

لگتا ہے پاکستان کوئی شرارت کرنا چاہتا ہے

لگتا ہے پاکستان کوئی شرارت کرنا چاہتا ہے

نئی دہلی: بھارتی وزیر خارجہ ششما سوراج نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کلبھوشن یادیو سے اہل خانہ کی ملاقات کو ہمدردی کے طور پر دکھا رہا ہے ، اہل خانہ سے ملاقات میں کلبھوشن وہی بول رہا تھا جو اسے سکھایا گیا تھا ، اس ملاقات کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا لگتا ہے پاکستان کوئی شرارت کرنا چاہتا ہے، آگے بڑھنے کے لیے یہ ملاقات ایک موقع ثابت ہو سکتی تھی لیکن پاکستان نے اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا،پاکستانی میڈیا کو موقع دیا گیا اور انھوں نے یادیو کی والدہ اور اہلیہ کو طعنے دیے اور طرح طرح کے الزامات لگائے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ ششما سوراج نے اپنی پارلیمنٹ لوک سبھا میں پاکستان میں دہشت گردی اور دیگر سنگین الزامات پر قید بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن یادیو کے اہل خانہ سے ملاقات پر پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو اہل خانہ سے ملنے دینے کر محض ہمدردی جتانا چاہتا ہے اپنی ہرزہ سرائی میں بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ کلبھوشن وہی بول رہا تھا جو اس کو سکھایا گیا تھا انہوں نے بتایا کہ اگر کلبھوشن کی اہلیہ کے جوتوں میں کیمرہ تھا تو پاکستانی حکام میڈیا کو دکھاتے کلبھوشن کے اہل خانہ کو پچھلے دروازے سے لے جایا گیا انہوں نے کہا کہ کلبھوشن کی والدہ مراٹھی زبان میں بات کرنا چاہتی تھی جس کی انہیں اجازت نہیں دی گئی ششما سوراج نے مزید کہا کہ پاکستان نے ملاقات کی شرائط کی خلاف ورزی کی کلبھوشن کے اہل خانہ کو پاکستان میں ہراساں کیا گیا اس ملاقات کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا لگتا ہے پاکستان کوئی شرارت کرنا چاہتا ہے خیال رہے کہ پاکستان نے مبینہ انڈین جاسوس جسے پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے کو ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کے لیے تین دن قبل پاکستان آنے کی اجازت دی تھی۔ ششما سوراج نے کہا کہ آگے بڑھنے کے لیے یہ ملاقات ایک موقع ثابت ہو سکتی تھی لیکن پاکستان نے اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے دروازے پر موجود پاکستانی میڈیا کے نمائندوں کے رویے پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سمجھوتا تھا کہ یادیو کی والدہ اور اہلیہ سے سوالات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم پاکستانی میڈیا کو موقع دیا گیا اور انھوں نے یادیو کی والدہ اور اہلیہ کو طعنے دئے اور طرح طرح کے الزامات لگائے۔انھوں نے مزید کہا یادیو کی والدہ اور اہلیہ کو لے جانے والی کار کو بھی جان بوجھ کر وہاں روکا گیا تھا اور اس کی وجہ بھی میڈیا کو موقع دینا تھا۔ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کے بارے میں بھارتی ڈپٹی کمشنر کو بتایا نہیں گیا تھا اور یادیو کی اہلیہ اور والدہ کے کپڑے تبدیل کیے گئے اور جب کچھ دیر بعد انھوں نے پوچھ تاچھ کی تو انھیں ملاقات کے لیے لے جایا گیا۔ یادیو کی ماں کو کیبل ساڑھی کے بجائے شلوار کرتا پہننے پر مجبور کیا گیا۔ بندی چوڑیاں، منگل سوتر اتارے گئے، ماں کے بھی منگل سوتر اتارے گئے انھوں نے کہا کہ یادیو کی پتنی کے جوتے ملاقات سے پہلے اتارے گئے اور پھر بار بار مانگنے پر نہیں دیے گئے۔ مجھے لگتا ہے پاکستان اس پر کچھ شرارت کرنا چاہتا ہے۔ کبھی کہتے ہیں چپ تھی، ریکارڈر تھا کیمرہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ اگر جوتے میں چپ یا کیمرہ تھا تو وہ اسی وقت کیوں نہیں بتایا گیا۔ سشما سوراج کے مطابق دباؤ کہ اہل خانہ کے مطابق وہ ملاقات میں دباؤ میں لگ رہے تھے۔ ملاقات سے لوٹنے کے بعد ماں پتنی نے بتایا وہ دباؤ میں لگ رہے تھے۔ جیسے جیسے ملاقات بڑھی پتہ چل رہا تھا کہ انھیں سکھا پڑھا کر بھجوایا گیا تھا۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یادیو کی والدہ اپنے بیٹے سے مراٹھی میں بات کرنا چاہتی تھیں تاہم انھیں ایسا نہیں کرنے دیا گیا اور ان کا مائکروفون بھی بند کیا گیا۔ یاد رہے کہ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کی پھانسی پر عمل درآمد اپنے فیصلے تک روک دیا ہے جب کہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے عدالت میں اپنا جواب داخل کر دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ملاقات کے دوسرے روز بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے کلبھوشن کی فیملی کی 'توہین' کی اور ملاقات کا جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ طے شدہ اصولوں سے مختلف تھا۔ تاہم جواب میں پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارت کے بیان کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ الفاظ کی جنگ میں نہیں پڑنا چاہتا اگر کچھ تحفظات تھے تو انھیں دورے کے دوران بیان کیا جانا چاہیے تھا۔ دفتر خارجہ کے تحریری بیان میں تو کلبھوشن کی اہلیہ کے جوتے کے بارے میں کچھ نہیں کہا تاہم پاکستان کے مقامی میڈیا میں ان کے جوتے کے مشکوک ہونے کے بارے میں دفتر خارجہ کے ترجمان کے بیان کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔

loading...