اشاعت کے باوقار 30 سال

چین، پاکستان، افغانستان سیاسی مصالحتی عمل کو فروغ دینے پر متفق

چین، پاکستان، افغانستان سیاسی مصالحتی عمل کو فروغ دینے پر متفق

بیجنگ: پاکستان، چین اور افغانستان سیاسی مصالحتی عمل کو فروغ دینے اور سہ فریقی مذاکراتی عمل کا سلسلہ جاری رکھنے پر متفق ہو گئے ہیں جبکہ دوسری سہ فریقی کانفرنس آئندہ سال کابل میں کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں سہ فریقی وزرائے خارجہ کے مشاورتی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے وزیر خارجہ خواجہ آصف، افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی اور وانگ ژی نے چین کی نمائندگی کی۔ سہ فریقی اجلاس میں اقتصادی تعاون، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سمیت افغان امن عمل اور تینوں ممالک کے درمیان تعلقات پر بات چیت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران پاکستان، چین اور افغانستان نے سیاسی مصالحتی عمل کو فروغ دینے پر اتفاق کیا جبکہ سہ فریقی مذاکراتی عمل کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ سہ فریقی مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ کے دوران وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سہ فریقی فورم سے افغانستان میں پائیدار امن کے لئے پر امید ہیں۔ مستقبل کی ترقی و امن ہم سب کے مفاد میں ہے، ہماری سرحدیں ملتی ہیں اس لیے امن ہمارا مشترکہ مشن ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لئے افغانستان میں پرامن صورتحال کا خواہشمند ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کے لئے مفاہمت کے عمل کا خیر مقدم کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں جاری سی پیک منصوبہ چینی صدر شی جن پنگ کا فلیگ شپ پراجیکٹ ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہاکہ ون بیلٹ ون روڈ کے تحت تینوں ملکوں میں ڈائیلاگ مفید رہے اور تینوں ممالک کے درمیان ڈائیلاگ اور تعاون قدرتی عمل ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ تینوں ممالک کی سلامتی کی مضبوطی کے لئے اقدامات جاری رہیں گے جبکہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی بہتری کے لئے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ اس موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے طالبان کو بھی مشترکہ امن عمل میں شرکت کی دعوت دی اور کہا کہ دوسری سہ فریقی کانفرنس آئندہ سال کابل میں کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا خطے میں امن کے قیام کے لیے انتہا پسندی کا خاتمہ بہت ضروری ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تینوں ممالک ایک پیج پر ہیں، دہشتگردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی جاری رہے گی۔ پاکستان اور چین افغانستان میں امن دیکھنا چاہتے ہیں۔ چین پڑوسی ممالک افغانستان اور پاکستان سے دوستی مضبوط رکھنے پر کام جاری رکھے گا۔ چین پاکستان اور افغانستان کا قابل بھروسہ دوست ہے اورچین دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات سے خوش ہے۔ افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ پہلی سہ فریقی پاک افغان چین کانفرنس کا خیر مقدم کرتے ہیں، چین کی پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعاون خوش آئند ہے اور افغانستان کی تعمیر نو میں چین کے تعاون کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں ہر گزرتے وقت کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے، دہشت گردی کی ہر شکل کا بلاتفریق مقابلہ کریں گے۔ سہ فریقی وزرائے خارجہ اجلاس سے قبل وزیر خارجہ خواجہ آصف نے چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات کی اس موقع پر سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور ڈی جی چین ڈیسک عائشہ عباس بھی شریک تھیں۔ پاکستانی اور چینی وفود کے درمیان ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں دونوں ممالک نے سی پیک منصوبے میں پیشرفت سے آگاہ کیا۔ ملاقات کے بعد چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کی دوستی مثالی ہے، دونوں ممالک اسٹریٹیجک پارٹنرز ہیں اور دوطرفہ مذاکرات کا مقصد سہ فریقی مذاکرات سے قبل ایک دوسرے کو اعتماد میں لینا تھا اور چاہیں گے کہ سہ فریقی مذاکرات کا اچھا نتیجہ نکلے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کے مطابق سہ فریقی مذاکرات میں شرکت کی دعوت چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کی طرف سے دی گئی۔ ترجمان کے مطابق سہ فریقی مذاکرات سے قبل پاک چین وزرائے خارجہ کی دوطرفہ ملاقات میں قومی اور بین الاقوامی ایشوز اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر بات چیت کی گئی۔

loading...