اشاعت کے باوقار 30 سال

ہواوے کمپنی کے بھارت میں ایک تہائی ملازمین فارغ

ہواوے کمپنی کے بھارت میں ایک تہائی ملازمین فارغ

نئی دہلی: جریدہ اکنامک ٹائمز میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی ٹیلی کام صنعت میں زبردست مسابقت ، کنسولڈیشن اور مالیاتی دباؤ کی وجہ سے چین کی ٹیلی کمیونیکیشن اکیوپمنٹ و سروس کمپنی ہواوے ٹیکنالوجیز کو بھارت میں اپنی افرادی قوت میں ایک تہائی کمی کرنی پڑی ۔رپورٹ کے مطابق کمپنی کو گھٹتے ہوئے ٹیلی کام کاروبار ، نیٹ ورک ،شٹ ڈاؤن اور پرفارمنس ریویو کی وجہ سے 2017 میں ملازمین کے قریبا تیس فیصد کو فارغ کرنا پڑا ، روزگار میں کمی کے بارے میں اس مالیاتی جزیرے کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ہواوے بھارت کے چیف ایگزیکٹو نے کہا ہواوے ایک فعال ادارہ ہے اور یہ فعالیت ہماری ورکنگ پالیسی سے آتی ہے ،ہم اپنے تمام وسائل کو اپنی اچھی کارکردگی کے لئے وقف کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کم اور ناقص کارکردگی سے نمٹنے سے کبھی گریز نہیں کرتے ہیں، ان ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ ملک کے دوسرے اور تیسرے بڑے ٹیلی کام پلیئرز ووڈا وفن بھارت اور آئیڈیا سیلولر کے ادغام کی وجہ سے بھی کرنا پڑا ہے، ہواوے نے متعدد حلقوں میں 4 جی سروسز شروع کرنے کے لئے ان کمپنیوں سے متعدد معاہدے کر رکھے تھے ، ٹیلی نار بھارت اور ٹاٹا ٹیلی جیسی چھوٹی ٹیلی کام کمپنیوں نے اپنے کاروبار بھارت ایئرٹیل کو فروخت کر دئے جب کہ ریلائنس کمیونیکیشن جیسی دوسری کمپنیوں نے اپنی وائس بزنس کو بند کر دیا اور ایئرسیل نے چھ حلقوں میں اپنی سروسز بند کر دیں ، 2016 تک دنیا بھر میں ہواوے کے ملازمین کی تعداد تخمینا 180000تھی اور یہ دنیا میں نویں سب سے بڑی انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے۔

loading...