اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

تاریخ کا شدید ترین زلزلہ

تھری ڈی پرنٹر کا کمال

تھری ڈی پرنٹر کا کمال

پرتھ: اگر ہڈی میں بال آ جائے یا معمولی فریکچر ہو جائے تو ہڈی کچھ ہفتوں میں از خود ٹھیک ہو جاتی ہے لیکن شدید متاثر ہونے کی صورت میں اسے دھاتی پلیٹوں اور نٹ بولٹ سے جوڑنا پڑتا ہے جو تکلیف دہ اور مہنگا عمل ہوتا ہے لیکن اب تھری ڈی پرنٹر سے بنی مصنوعی ہڈی کا ایک ٹکڑا جب پیوندکاری کے ذریعے لگایا گیا تو وہ خود اس ہڈی سے جڑ کر اس کا حصہ بن گیا۔
کچھ عرصہ قبل ایک بچے کے حلق کے متاثرہ حصے پر تھری ڈی پرنٹر سے بنا ایک ٹکڑا کامیابی سے جوڑا گیا تھا لیکن یونیورسٹی آف سڈنی کی پروفیسر ہالہ زریقت اور ان کے ساتھیوں نے تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے ایک خاص مٹیریل سے ہڈی کا ٹوٹا ہوا حصہ بنایا اور اسے خرگوش کے جسم میں لگایا تو اس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے۔ اس کامیابی کے بعد ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اس ٹیم نے ایک بھیڑ کی ٹانگ کے فریکچر کو درست کیا اور اس طرح روایتی علاج کے بجائے تھری ڈی پرنٹڈ پیوند کاری کی اہمیت سامنے آئی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر 8 بھیڑیں پیوند لگنے کے فوراً بعد ہی چلنے پھرنے کے قابل ہو گئیں۔
ماہرین نے نوٹ کیا کہ تھری ڈی پرنٹر سے بنی مصنوعی ہڈی لگانے کے 3 ماہ بعد فریکچر کا زخم 25 فیصد تک ٹھیک ہو گیا اور ایک سال کے دوران اس میں 88 فیصد بہتری پیدا ہوئی۔ جب بھیڑوں کے ایکسرے لیے گئے تو معلوم ہوا کہ اصل ہڈی دوبارہ اگنے لگی اور سرامک سے بنا پیوند یا ہڈی کا ٹکڑا دھیرے دھیرے اس کا حصہ بن گیا۔ قبل ازیں تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے خون کی مصنوعی نالیاں اور شریانیں بنانے میں بھی خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے جب کہ جولائی میں ماہرین نے ایک تھری ڈی پرنٹر سے مصنوعی دل بھی تیار کیا تھا۔ توقع ہے کہ اس ایجاد سے مستقبل میں دل کے ان مریضوں کے لیے امید کی کرن پیدا ہو گی جو آج دل کے عطیے کے انتظار میں اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔

loading...