اشاعت کے باوقار 30 سال

ولید بن طلال کو 6 ارب ڈالر کے بدلے آزادی کی پیش کش

ولید بن طلال  کو 6 ارب ڈالر کے بدلے آزادی کی پیش کش

ریاض: سعودی عرب کے حکام نے کرپشن کیس میں گرفتار دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے عرب شہزادے ولید بن طلال کو 6 ارب امریکی ڈالروں (6 کھرب سے زائد پاکستانی روپے) کے بدلے آزادی کی پیش کش کی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق کرپشن کیس سے جڑے سعودی عرب کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ حکومتی حکام نے شہزادہ ولید بن طلال سے رہائی کے بدلے پیسے طلب کیے ہیں۔ سعودی حکومت نے شہزادے کو ایسے اشارے دیے ہیں کہ وہ نقد رقم دے کر خود کو آزاد کر کے اپنے 25 سالہ کاروبار کو ختم ہونے سے بچا سکتے ہیں جب کہ انھیں 6 ارب امریکی ڈالر (پاکستانی 6 کھرب روپے سے زائد) کے بدلے آزادی کی پیش کش کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے والے سعودی شہزادے کا شمار دنیا کی ابتدائی 50 امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے ان کے کل اثاثہ جات کی مالیت 19 ارب ڈالر ہے۔ شہزادے نے نامور کمپنیوں جیسے ایپل، سٹی گروپ وغیرہ میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے گزشتہ ماہ کے آغاز میں کرپشن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 11 شہزادوں سمیت درجنوں افراد کو گرفتار کیا تھا اور ان میں شہزادہ ولید بن طلال بھی شامل تھے۔ وہ 5 نومبر سے سعودی حکومت کی قید میں ہیں۔

loading...