اشاعت کے باوقار 30 سال

دنیا کے سب سے بڑے طیارے کی آزمائش کا دوسرا مرحلہ مکمل

دنیا کے سب سے بڑے طیارے کی آزمائش کا دوسرا مرحلہ مکمل

کیلیفورنیا: دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور ہوائی جہاز نے اپنی آزمائش کا ایک اور مرحلہ کامیابی سے طے کر لیا ہے۔ یہ کوئی مسافر طیارہ نہیں بلکہ اسے انتہائی بلند پرواز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے اوپر راکٹ رکھ کر اسے فضا میں لانچ کیا جائے گا جہاں سے راکٹ سیٹلائٹ اور دیگر سامان کو خلا میں لے کر جا سکے گا۔ اس طرح راکٹ کے ایندھن اور لاگت میں کمی آئے گی کیونکہ زمین سے راکٹ کی پرواز میں بہت ایندھن درکار ہوتا ہے اور اس پر اخراجات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن اسٹریٹو لانچ سسٹمز کا تیارکردہ یہ ہوائی جہاز اپنی پیٹھ پر راکٹ سوار کر کے اسے بالائی فضا (اسٹریٹو اسفیئر) کے قریب لے جائے گا جہاں سے راکٹ داغنا آسان ہو گا۔ اس طیارے کے دو فیوزلاج یعنی مرکزی ڈھانچے ہیں۔ اس طیارے کا تمام تر پروپلشن سسٹم ناسا نے ٹیسٹ کیا ہے۔ اب پہلی مرتبہ اسٹریٹو لانچ کو کیلیفورنیا کے موحاوی ریگستان میں ہلکی رفتار سے چلایا گیا ہے جسے ٹیکسی کا عمل کہتے ہیں۔ اپنے بازوؤں کے گھیر کے لحاظ سے یہ دنیا کا سب سے بڑا ہوائی جہاز ہے جس میں پریٹ اینڈ وٹنی کمپنی کے 6 عدد ٹربوفین انجن نصب ہیں۔ آزمائشی طور پر ان 6 انجنوں کو بھی کھولا گیا ہے۔ ٹیکسی کے عمل میں طیارے کے دوڑنے، مڑنے اور بریک لگانے کا سارا عمل ٹیسٹ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ماہرین نے طیارے کے تمام تر نظام کا بھی جائزہ لیا ہے اور آزمائشی طور پر پورا طیارہ اچھی طرح کام کر رہا تھا۔ اس سے قبل ستمبر میں بھی اسٹریٹو لانچ کے چھ انجن چلائے گئے تھے۔ اگلے مرحلے میں اس کا کمیونی کیشن سسٹم ٹیسٹ کیا جائے گا جس میں مرکزی کنٹرول روم سے جہاز کے تمام رابطے چیک کیے جائیں گے۔

loading...