اشاعت کے باوقار 30 سال

آسٹریلیا میں شمالی کوریا کا مالی ایجنٹ گرفتار

آسٹریلیا میں شمالی کوریا کا مالی ایجنٹ گرفتار

سڈنی: آسٹریلیا کی وفاقی پولیس (اے ایف پی) نے بتایا ہے سڈنی میں ایک شخص کو شمالی کوریا کے لیے مبینہ مالی ایجنٹ کے طور پر کام کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ 59 سالہ چان ہان چوئی پر شمالی کوریا سے غیرقانونی برآمدات کے لیے ثالثی کرنے اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کے بارے میں بات کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے اقوام متحدہ اور آسٹریلیا دونوں کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ مسٹر چان آسٹریلیا میں گذشتہ 30 سال سے بھی زیادہ عرصے سے مقیم ہیں۔ ان کے خلاف یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے۔پہلی بار کسی شخص کو ملک میں 1995 کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کی روک تھام کے قانون کے تحت ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چان ہان چوئی کے شمالی کوریا کے اعلی اہل کاروں کے ساتھ رابطے کے شواہد ہیں۔انھوں نے الزام لگایا ہے کہ چان ہان چوئی نے شمالی کوریا کے اسلحے کے پروگرام کی خدمات کی بروکرنگ کی ہے جس میں غیر ممالک میں بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کی ماہرانہ خدامات کی فروخت بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق یہ سب شمالی کوریا کی حکومت کے لیے آمدن پیدا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ چان ہان چوئی پر شمالی کوریا کے کوئلے انڈونیشیا اور ویت نام کے گروہوں کے ہاتھ فروخت کرنے میں پیسہ بنانے کا الزام بھی ہے۔ انھیں گزشتہ شب کو سڈنی میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد مجموعی طور پر ان پر چھ الزامات لگائے گئے ۔اتوار کی پریس کانفرنس میں پولیس نے تصدیق کی کہ گرفتار کیا جانے والا شخص کوریائی نسل کا آسٹریلوی شہری ہے جو کہ 30 سال سے زیادہ عرصے سے ملک میں مقیم ہے۔ انھوں نے چان کو 'وفادار ایجنٹ قرار دیا جس کا یہ یقین ہے کہ وہ 'اعلی مقاصد کے حصول کے لیے وطن پرستی کا کام کر رہا ہے۔ بہر حال پولیس نے کہا کہ ان کے کام سے آسٹریلیا کے باشندوں کو کوئی’’براہ راست خطرہ‘‘ نہیں کیونکہ وہ اس کے کام کا تعلق دوسرے ممالک سے ہے۔ اے ایف پی کے نائب کمشنر نیل گوگھن نے کہا کہ یہ الزامات خبردار کرنے والے ہیں۔ لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی اسلحہ یا میزائل کا کوئی حصہ کبھی بھی آسٹریلیا کی سرزمین پر نہیں آیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی شخص پابندیوں کی خلاف ورزی کر کے آسٹریلیا میں نہیں بچ سکتا۔ مسٹر چان کو دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے اور ان کی ضمانت کی عرضی کو خارج کر دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اکتوبر میں اسٹریلیا کی حکومت کو شمالی کوریا کی جانب سے ایک خط ملا تھا جس میں کنبیرا کو ٹرمپ انتظامیہ سے دور رہنے کے لیے کہا گیا تھا۔ اس سے قبل پیانگ یانگ نے متنبہ کر رکھا ہے کہ اگر آسٹریلیا کم جانگ ان کی حکومت کے خلاف امریکی پالیسی کی پیروی کرتا ہے تو وہ تباہی سے نہیں بچ سکتا۔

loading...