اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

تاریخ کا شدید ترین زلزلہ

عمران خان اور جہانگیر ترین کیس کا فیصلہ خود اپنے منہ سے بول رہا ہے

عمران خان اور جہانگیر ترین کیس کا فیصلہ خود اپنے منہ سے بول رہا ہے

لندن: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کیس میں سپریم کورٹ سے جو فیصلہ آیا وہ خود اپنے منہ سے بول رہا ہے، منتخب وزیر اعظم کو اقامے پر نکال دیا جاتا ہے اور جو شخص اعتراف کرتا ہے اسے چھوڑ دیا جاتا ہے، میرے خلاف عمران خان کا کیس عدالتی بینچ نے خود لڑا۔ ہفتے کے روز لندن سے لاہور روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ’’وزیر اعظم کو اقامے پر نکال دیا جاتا ہے اور جو شخص اعتراف کرتا ہے اسے چھوڑ دیا جاتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے لیے انصاف کے تقاضے کچھ اور ان کے لیے کچھ، ایسا اب نہیں چلے گا، اس کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے، انصاف کے دو ترازو نہیں چلیں گے‘‘۔ نواز شریف نے کہا کہ ’’مجھے کہا گیا کہ میں نے تنخواہ نہیں لی، لاکھوں پاؤنڈز کے کاروبار کو یہ اثاثہ نہیں کہہ رہے لیکن میری خیالی تنخواہ کو انھوں نے اثاثہ مان لیا‘‘۔ 28 جولائی کے بعد ہماری کہی ایک ایک بات سچ ثابت ہو رہی ہے، قانون اور آئین کی حکمرانی کے لیے جو کرنا پڑا کروں گا، میری جدوجہد پاکستان میں قانون اور آئین کی حکمرانی کی ہے، نواز شریف کا کہنا تھا اس طرح کا انصاف پاکستان میں نہیں چلے گا اس کے خلاف بھرپور تحریک چلائیں گے۔ پہلے ہی کہہ دیا تھا عمران، جہانگیر ترین کے مقدموں میں مجھے ہی نااہل کیا جائے گا، سمجھتا ہوں میری خیالی تنخواہ کو انھوں نے اثاثہ مان لیا، مجھے کہا جا رہا ہے تنخواہ نہیں لی، لاکھوں پاؤنڈز کے کاروبار کو یہ اثاثہ نہیں کہہ رہے۔ نواز شریف گزشتہ کئی روز سے لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کا علاج جاری ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف آج لندن سے وطن واپس پہنچیں گے۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نیب ریفرنسز کی سماعت کے سلسلے میں نواز شریف کو حاضری سے ایک ہفتے کے لیے استثنیٰ بھی دیا تھا جس کے بعد وہ لندن روانہ ہو گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف کے ساتھ ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی پاکستان آئیں گے۔ واضح رہے کہ شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں نیب ریفرنسز زیر سماعت ہیں۔

loading...