اشاعت کے باوقار 30 سال

بنگلہ دیش بھارت نوازی میں ہر حد پار کرنے کے لئے تیار

بنگلہ دیش بھارت نوازی میں ہر حد پار کرنے کے لئے تیار

چٹا کانگ: بنگلہ دیش بھارت نوازی میں ہر حد پار کرنے کے لئے تیار، پاکستان سے محبت کے الزام میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسی دینے کا سلسلہ ابھی تھما نہیں تھا کہ طلبہ تنظیم کے 20 کارکنان کو پولیس نے اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ پاکستان کی حمایت میں ریلی نکالنے کے لئے جمع ہوئے تھے خیال رہے کہ پاکستان سے محبت اور 1971 میں سقوط ڈھاکہ کے وقت پاکستان کی حمایت کرنے کے جرم میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے متعدد رہنماؤں کو سزائے موت بھی دی جا چکی ہے۔ 1971 میں پاکستان کا ساتھ دینے والے رہنماؤں کو سزا دینے کے لیے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے 2010 میں متنازع جنگی ٹربیونل تشکیل دیا تھا جس نے جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت کو پھانسی اور سزائیں سنائیں۔ علاوہ ازیں بنگلہ دیش کی اعلیٰ عدالت نے 2013 میں جماعت اسلامی کے منشور کو ملک کے سیکولر آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ تاہم جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی ذیلی طلبہ تنظیم کے کارکنان کی گرفتاری ایسے دن کی گئی جس دن بنگلہ دیش بھر میں آزادی کی تقریبات منعقد کی گئیں۔ چٹا گانگ پولیس نے ‘اسلامی چھترا شبیری‘ نامی طلبہ تنظیم کے 20 طلبہ کو ایسے وقت میں گرفتار کیا، جب وہ ریلی نکالنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیمی ’شبیری‘ کے طلبہ بنگلہ دیش مخالف یعنی پاکستانی حمایت میں ریلی نکالنے کے لیے جمع ہوئے۔ چٹاگانگ کی کوٹوال پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او محمد جاسم الدین کے مطابق طلبہ نے شہید مینار پر توڑ پھوڑ اور ہنگامہ کرنے کا پروگرام بھی بنا رکھا تھا۔ تاہم دوسری جانب طلبہ تنظیم کے چٹاگانگ کے یونٹ رہنما نورالامین نے پولیس کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کارکنان تو آزادی کی تقریبات میں شرکت کرنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔

loading...