اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

تاریخ کا شدید ترین زلزلہ

پاکستان سپر ہاکی لیگ اور ورلڈ الیون سے دنیا میں مثبت پیغام جائے گا

پاکستان سپر ہاکی لیگ اور ورلڈ الیون سے دنیا میں مثبت پیغام جائے گا

لاہور: پاکستانی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور اولمپینئنز طاہر زمان سمیت دیگر اولمپیئنز جن میں محمد ثقلین ،عاطف بشیر ،قمر ابراہیم اور محمد عثمان سمیت دیگر کھلاڑیوں نے کہا ہے کہ پاکستان سپر ہاکی لیگ اور ورلڈالیون کے دورہ پاکستان سے دنیا کو یہ پیغام ملے کا کہ پاکستان کھیلوں کے لئے محفوظ ملک ہے ۔ہاکی لیگ پاکستان میں ہاکی کی بہتری میں اہم کردار ادا کرے گی انہوں نے کہا کہ ہاکی کی بہتری کے لئے صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن برگیڈیئر ریٹائرڈ خالد سجاد کھوکھر اور سیکرٹری شہباز احمد سنیئر کی کوششوں سے ہاکی کا کھویا ہوا مقام حاصل کر لے گی جب کہ سابق اولمپیئن ریحان بٹ نے کہا کہ چند پرانے اولمپیئنز کی منفی سیاست سے ہاکی کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑا جو لوگ اپنے مفادات کے لئے ہاکی کو تباہی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔سابق اولمپیئن محمد ثقلین نے کہا کہ پاکستان سپر ہاکی لیگ سے ہاکی میں بہتری آئے گی اس لیگ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا اورآنے والے اہم ٹورنامنٹس میں قومی ہاکی ٹیم بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی پی ایچ ایف کے سیکرٹری شہباز احمد سنیئر کی موجودہ پالیسیوں سے پاکستان میں ہاکی کا گرتا ہوا معیار بہتری کی طرف گامزن ہوا ہے۔ سابق اولمپیئن ڈاکٹر عاطف بشیر نے کہا کہ ہاکی میں منفی سیاست اور عہدوں کے حصول نے ہاکی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اب وقت آ گیا ہے کہ اپنی مثبت سوچ اور بہتر حکمتِ عملی سے پاکستان ہاکی فیڈریشن ملک میں ہاکی کی بہتری کے لئے کام کرے۔ سابق اولمپیئن قمر ابراہیم اور سابق کپتان محد عثمان نے کہاکہ شہباز احمد سنیئر دنیا کے بہترین کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین ایڈمنسٹریٹر بھی ثابت ہوں گے امید ہے کہ وہ اپنے مخالفین کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہاکی کو اپنا کھویا ہوا مقام واپس دلوانے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔محمد عرفان سینئر، اولمپیئنز خالد حمید، طارق عمران، شبیر حسین نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی موجودہ پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ جلد قومی ہاکی ٹیم اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لے گی سابق اولمپیئن علیم رضا نے کہا کہ پی ایچ ایف کے صدر برگیڈئیر ریٹائرڈ خالد سجاد کھوکھر نہ صرف فنڈز لے کر آئے بلکہ ہاکی کھلاڑیوں کو روزگار بھی مہیا کیا ہے۔ 1994 کے سڈنی ورلڈ کپ کے فاتح کامران اشرف نے کہا پی ایچ ایف نے ہاکی کی بہتری کے لئے زیڈ ٹی بی ایل، او ڈی سی اور ایس این جی پی ایل کی ٹیموں کی تشکیلِ نو کی جس سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی اور وہ مالی طور پر مستحکم ہوئے۔

loading...