اشاعت کے باوقار 30 سال

انتہا پسندوں کے لیے مملکت میں کوئی جگہ نہیں

انتہا پسندوں کے لیے مملکت میں کوئی جگہ نہیں

ریاض: سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے کہا ہے کہ جدت کو انحطاط خیال کرنے والے انتہا پسندوں کے لیے مملکت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ انھوں نے ملک سے بدعنوانیوں کے خاتمے اور ترقی کے عمل میں شہریوں کی شرکت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وہ سعودی شوریٰ کونسل کے دوسرے سال کے آغاز پر ساتویں اجلاس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی مملکت نے شاہ عبدالعزیز کے ہاتھوں اپنے قیام کے بعد سے شریعت کا نفاذ کیا ہے ، تمام امور میں دین اسلام و انصاف کو اختیار کیا ہے اور مشاورت کے اصول کو اپنایا ہے۔ انھوں نے الحرمین الشریفین کی خدمت ، حجاج کرام اور معتمرین کی میزبانی و مہمان نوازی کا اعزاز بخشنے پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت مملکت میں دور رس نتائج کی حامل جامع اصلاحات کے ویڑن 2030ء پر عمل کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں اداروں کی تشکیل نو کی جا رہی ہے اور سعودی مرد و خواتین کو ترقی کے عمل میں شریک کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے ترقی کے عمل میں نجی شعبے کی شراکت کو سراہا اور کہا کہ نوجوان مرد و خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور صنعتوں کو مقامی بنانے کے لیے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور اس کو با اختیار بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ شاہ سلمان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’ہمارا یہ سب کے لیے پیغام ہے کہ ایک انتہا پسند کے لیے ہمارے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے جو جدت کو انحطاط خیال کرتا ہے اور ہمارے اعتدال پسند دین کو اپنے مقاصد و اہداف کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس انتہا پسند کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں ہے جو انتہا پسندی کے خلاف ہماری جنگ کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم دین کے محافظ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا اعزاز بخشا ہے۔ ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں کامیابیوں سے نوازے۔ شاہ سلمان نے خطے میں در پیش بحرانوں کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سر فہرست فلسطینی مسئلہ ہے۔ انھوں نے فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد ریاست قائم کی جانی چاہیے جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔ انھوں نے اس موقع پر ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کی جانب سے امریکا کے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کی مذمت کی اور اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ فلسطینیوں کے خلاف واضح تعصب کا مظہر ہے اور القدس شہر کی تاریخی اہمیت کو نظر انداز کرنے کا عکاس ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں میں اہم اور نمایاں کردار ادا کر رہا ہے اور وہ خطے میں جاری بحرانوں کے سیاسی حل کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دہشت گرد گروپوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

loading...