اشاعت کے باوقار 30 سال

چین نے تائیوان پر حملے کی دھمکی دے دی

چین نے تائیوان پر حملے کی دھمکی دے دی

بیجنگ: چین نے تائیوان کو وارننگ دی ہے کہ وہ غیر ملکی طاقتوں پر بھروسہ نہ کر ے ،تائیوان اپنے مقاصد کے لئے غیر ملکی طاقتوں کی امداد حاصل کرنے کی کوششوں میں ناکام ہو جائے گا اور اگر کسی امریکی جنگی جہاز نے تائیوانی بحری اڈے کا دورہ کرنے کی کوشش کی تو اس پر حملہ کر دیا جائے گا ۔چین یہ سمجھتا ہے کہ تائیوان اس کا علاقہ ہے اور چین نے کبھی اسے کنٹرول میں لانے کے لئے طاقت استعمال نہیں کی ۔دریں اثنا امریکہ کے تائیوان کے ساتھ کوئی روایتی تعلقات نہیں ہیں لیکن وہ ستمبر میں منظور کئے گئے ایک ایکٹ کے تحت قانونی طور پر اس کا دفاع کرنے کا پابند ہے کیونکہ وہ اس کے اسلحے کا بڑا ذریعہ ہے ، بیجنگ تائیوان کو باقاعدہ طور پر بہت حساس تصور کرتا ہے اور امریکہ اور اس کے درمیان اسے ایک اہم معاملہ سمجھتا ہے، ستمبر میں امریکی کانگرس نے نیشنل ڈیفنس ایکٹ برائے 2018ء مالی سال منظور کیا جو تائیوان اور امریکہ کے بحری جہازوں کو دو طرفہ دوروں کا اختیار دیتا ہے، امریکہ میں موجود ایک چینی سفارت کار نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اگر امریکی بحری جہازوں نے تائیوان کا دورہ کیا تو چین فوراً تائیوان پر حملہ کر دے گا۔ ایک سوال کے جواب میں تائیوان امور کے دفتر کے ترجمان فینگ شان نے کہا کہ تائیوان چین کا ایک ضدی حصہ اور اس کے لئے ایک بین الاقوامی معاملہ ہے اور چین تائپی اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی فوجی رابطے کی زبردست مخالفت کرتا ہے جو کچھ میں چاہتا ہوں یا جس نقطے پر ہم زور دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو نمایاں کرنے یا کوئی ایسا منصوبہ تیار کرنے جو چین کی قومی سلامتی اور علاقائی خود مختاری کو نقصان پہنچائے اس کی چین زبردست مخالفت کرتا ہے اور ایسی کسی کوشش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گا ۔دریں اثنا واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر امریکی بحری جہازوں نے تائیوان کے بحری اڈے میں جانے کی کوشش کی تو بیجنگ ہر صورت میں اپنی خود مختاری بحال کرنے کے لئے تیار ہے، تائیوان جو چین کا حصہ ہے 1949ء سے آزادانہ طور پر کام کر رہا ہے لیکن تائیوان کی حکومت کو بین الاقوامی طور پر تسلیم نہیں کیا ، چین تائیوان کو اپنا حصہ تصور کرتا ہے اور چین کی یہ پالیسی ایک چین کے طور پر پہنچانی جاتی ہے۔

loading...