اشاعت کے باوقار 30 سال

بھارت کا پاکستان سے کھیلنا ضروری نہیں

بھارت کا پاکستان سے کھیلنا ضروری نہیں

نئی دہلی: بھارتی ہاکی ٹیم کے ڈچ کوچ ایس جورڈ میرجین کا کہنا ہے کہ بھارت کا پاکستان سے کھیلنا ضروری نہیں رہا۔ تجربہ کار 43 سالہ ڈچ کوچ ایس جورڈ نے کہا کہ میں ہاکی ورلڈ کپ فائنل میں میزبان بھارتی ٹیم کی تیسری پوزیشن حاصل کرنے کی قطعی توقع نہیں رکھتا تھا، مجھے اس میں کچھ شبہات تھے۔ یہ ہمارے لیے بہت مشکل تھا کیونکہ میں نے ڈھائی ماہ قبل ہی رولینٹ اولٹمنز کی جگہ مینز ٹیم کی بھی ذمہ داری سنبھالی تھی، میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ہم نے ایشیا کپ جیتا لیکن اس میں شریک ٹیمیں عالمی درجہ بندی میں 12 یا اس سے زائد پوزیشنز کی تھیں، ورلڈ لیگ میں ہمیں دنیا کی ٹاپ کلاس ٹیموں کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا لیکن ہم نے تکنیکی اور ذہنی مضبوطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وکٹری اسٹینڈ پر جگہ بنالی جس پر میں بہت خوش ہوں۔ بھارت نے تیسری پوزیشن کے مقابلے میں جرمنی کو مات دی تھی، اس حوالے سے سوال پر بھارتی کوچ نے کہا کہ میں اس پر مسرور ہوں لیکن اس سے قبل سیمی فائنل میں ارجنٹائن کے ہاتھوں شکست پر مجھے کچھ مایوسی ہوئی، کھلاڑیوں نے میرے انداز کوچنگ کو پسند کیا اور اس پر عمل بھی کیا۔ ایک سوال پر ایس جورڈ نے کہا کہ پاک بھارت ٹاکرے اگرچہ پلیئرز کے لئے عمومی ہوتے ہیں لیکن دونوں ملکوں کے عوام کے لئے یہ میچز بہت خاص ہو جاتے ہیں، میں نے بطور بھارتی کوچ پاکستان کے خلاف دو میچز میں حصہ لیا ہے۔ انٹرنیشنل ہاکی میں ایشیا بدستور ایک قوت کے طور پر موجود ہے لیکن اس کے لئے بھارت کا پاکستان سے کھیلنا ضروری نہیں، ہماری ٹیم نے حالیہ برسوں میں کئی بار ملائیشیا میں روایتی حریف کا سامنا کیا جب کہ دنیا کی بہترین سائیڈز کو شکست دینے کے لیے پلیئرز کا پراعتماد ہونا ضروری اور اس کے بعد تواتر سے پرفارمنس پیش کرنا سب سے اہم ہے۔

loading...