اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

اقوامِ متحدہ کا ادارہ مسلمانوں کے لیے ناکارہ اور بے جان ہو چکا ہے

اقوامِ متحدہ کا ادارہ مسلمانوں کے لیے ناکارہ اور بے جان ہو چکا ہے

سری نگر: کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیرمین سید علی گیلانی نے فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں متعدد افراد کی شہادت اور سینکڑوں لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے وحشیانہ پن اور درندگی سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارلخلافہ قرار دینے کے بعد احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں پر بے تحاشا طاقت کا استعمال کسی بھی طور جائز نہیں ہے اور اس کے خلاف پوری امّت مسلمہ کو متحد ہو کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ گیلانی نے فلسطین کی موجودہ صورت حال کو امّت مسلمہ کے لیے ایک بڑا المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نام نہاد مہذب اور جمہوری ممالک اسرائیل کی من مانی کارروائیوں پر نہ صرف خاموش ہیں، بلکہ وہ درپردہ اس دہشت گردی کے لیے اسرائیل کی پیٹھ بھی تھپتھپا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس وقت انسانیت کُش ہتھیار تیار کر رہا ہے، جس کے لیے اسے امریکہ بھی مدد دے رہا ہے، جسے کسی بھی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اسرائیل پوری عرب دنیا کے لیے اس وقت بہت بڑا خطرہ بنا ہوا ہے اور اگر اس خطرے کی پیش بندی نہیں کی گئی تو آج جس صورت حال سے فلسطین گزر رہا ہے، پوری عرب دنیا اس سے بھی بدتر صورت حال سے دو چار ہو گی۔ یہ عرب دنیا کے لیے اپنے بے توجہی اور غفلت کی نیند سے جاگنے کا وقت ہے اور اگر وہ آج نہ جاگے تو وہ ہمیشہ کے لیے بھیانک موت کی آغوش میں چلے جائیں گے۔ گیلانی نے کہا اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے سازشیں جاری ہیں اس لیے تمام اسلام دشمن قوتیں مل کر مسلمانوں کو تہہ تیغ کر رہی ہیں۔ دنیا میں اس وقت 57 ممالک میں مسلمانوں کی حکومتیں ہیں، مگر افسوس یہ سب حکومتیں اسلام دشمن طاقتوں کے آلۂ کار بن کر دشمن اسلام کے خاکوں میں رنگ بھر رہی ہیں۔ مسلمان ممالک نہ صرف اس قتل عام کے تماشائی بنے بیٹھے ہیں، بلکہ اس کے لیے مسلم دشمن ممالک کو مسلمانوں کو مارنے کے لیے استعمال کئے جانے والے ہتھیاروں کے دام بھی ادا کرتے ہیں۔ اسلامی راہنما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو معدنی ذخائر سے مالا مال کر دیا تھا جس سے ان کو کافی زیادہ آمدنی حاصل ہو رہی ہے اور قرآن پاک میں مسلمانوں سے تاکید کی گئی تھی کہ قوت حاصل کرو، مگر بدقسمتی سے یہ آمدنی یہ لوگ اپنی عیاشیوں پر خرچ کر رہے ہیں اور اس آمدنی سے مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور نہ ان کے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے وہ قوت حاصل کی جاتی ہے جو وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ امریکہ جو دنیا کا واحد سپر پاور کا داعی ہے، نے دنیا کے کونے کونے اور گوشے گوشے میں اپنی اندھی طاقت کا مظاہرہ کر کے پوری دنیا خاص کر مسلمان ممالک کو قتل گاہ میں بدل دیا ہے۔ ’’دہشت گردی کے خلاف لڑائی‘‘ کی آڑ میں اس ملک نے بدترین دہشت گردی کا مظاہرہ کر کے افغانستان، اور عراق کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے، جب کہ اس کا اگلا نشانہ پاکستان، ایران، ترکی، شام، لبنان اور دوسرے ممالک ہیں۔ فلسطین کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے رول پر تبصرہ کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ یہ ادارہ مسلمانوں کے لیے ناکارہ اور بے جان ہو چکا ہے، بلکہ یہ پوری طرح سے امریکہ کی گرفت میں ہے اور اس ملک کی مرضی کے بغیر یہ کوئی قدم بھی نہیں اٹھاتا ہے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے رول کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے آزادی پسند راہنما نے کہا کہ یہ ادارہ مضبوط اور فعال ہوتا اور اس کا کوئی اثر قائم ہوتا تو اسرائیل فلسطینیوں کا اس بے دردی کے ساتھ قتل عام کرنے کی جرأت ہی نہیں کرتا۔ بیشتر مسلم ممالک کے حکمران صرف اپنی عیاشیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور انہیں اس بات کی کوئی سمجھ ہی نہیں کہ آگے ان کی باری آنے والی ہے اور انہیں بھی ایک ایک کر کے افغانستان اور عراق جیسے انجام سے دو چار کیا جا سکتا ہے۔ اسلام پسند راہنما نے کہا کہ دنیا کے مسلمان ایک ہو جائیں اور وہ ایک ملّت ہونے کی حیثیت کو پہچانیں تو اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے ہی نیست و نابود کیا جا سکتا ہے، مگر بدقسمتی سے مسلمان دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور اپنی حماقتوں کی وجہ سے تقسیم در تقسیم ہو گئے ہیں اور وہ کہیں شیعہ سنی اور کہیں دوسرے ناموں پر ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ گیلانی صاحب نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صیہونی اور سامراجی طاقتیں اُس مزاحمت کو شیعہ سنی تصادم میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں، جو مقبوضہ مسلمان ممالک میں ان کے لیے ایک دیوار بن سکتی تھی اور جس سے ان کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔ اسلامی راہنما نے OIC سے وابستہ تمام ممبران ممالک کے سربراہان سے اپیل کی کہ وہ اس ادارے کو مؤثر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں اور سب سے پہلے مسلمانوں کے اندر انتشار اور افتراق کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ مسلمان سب سے پہلے ایک ملّت ہے اور اس ادارے کو چاہیے کہ وہ اس ملّت کے درپیش مسائل کو حل کرنے میں اپنا کلیدی رول ادا کریں اور امّت مسلمہ کے دو بڑے اور دیرینہ مسائل مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے میں اپنا مؤثر رول ادا کریں۔

loading...