اشاعت کے باوقار 30 سال

ایڈز کی رو ک تھام کا عالمی دن اور بلوچستان

ایڈز کی رو ک تھام کا عالمی دن اور بلوچستان

آ ج ہم عالمی ایڈز ڈے بلوچستان کے ساتھ ساتھ پورے پاکستان میں منا رہے ہیں بلکہ آج تمام دنیا میں ایڈز کی روک تھام کے لئے سمینارز اور واک منعقد کئے جارہے ہیں ایڈز کا عالمی دن ہر سال نئے موضوعات کے ساتھ منایا جاتا ہے اس سال کا موضوع ہے 'میری صحت میرا حق' اور 'ہے زندگی تو احتیاط ہے لازم' کے سلوگن کے تحت منا یا جار ہا ہے ۔
اب یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ایڈز کیا ہے تو بڑا سادہ سا جواب ہے کہ ایڈز ایک لاعلاج مرض ہے اور جان لیوا ہے ایڈ ز کے وائرس کو -Human Immuno
deficiency Virus ایچ آئی وی یعنی انسانی جسم کی قوت مدافعت میں کمی کو کہا جاتا ہے ، ایچ آئی وی ایک ایسا وائرس ہے جس سے ایڈز کی بیماری لگ سکتی ہے یہ وائرس کچھ عرصے کے بعد جسم کی مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے دفاعی نظام کے مفلوج ہونے کی صورت میں جو بھی بیماری انسان کی جسم میں داخل ہو جاتی ہے وہ سنگین اور مہلک صورت اختیار کر جاتی ہے اور موت ہی اس کا انجام ہوتا ہے ۔
اب یہ بھی جاننا ضروی ہے کہ کن چیزوں سے ایچ آئی وی وائرس ایک تندرست اور صحت مند شخص میں داخل ہو سکتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ ایچ آئی وی انسانی جسم میں تین طر یقوں سے داخل ہو سکتا ہے ۔ اول یہ کہ خون کے ذریعے یہ داخل ہو جاتا ہے جن میں غیر محفوظ انتقال خون، ایچ آئی وی سے متاثرہ شخص کے استعمال شدہ سرنج سے ، آلات جراحی ، حجام کے استعمال میں آنے والے آلات ، کان ناک میں سوراخ کرنے کے لئے استعمال میں آنے والے آلات سے اور اسی طرح دانت نکلواتے وقت استعمال ہونے والے آلات سے داخل ہوتا ہے اور دوسرا طریقہ متا ثر ہ ماں سے پیدا ہونے والے بچے میں یہ داخل ہوتا ہے جب کہ تیسرا ذریعہ کسی ایچ آئی وی متاثرہ شخص سے غیر محفوظ جنسی تعلقات روا رکھنے سے ہوتا ہے تاہم صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام محکمہ صحت بلوچستان نے اس وائرس کے انسانی جسم میں داخل ہونے کے اور بھی طریقے بتائے ہیں جس کے مطابق پاکستان اور بلوچستان میں انجکشن کے ذریعے نشہ لینے والے نشہ کے عادی افراد میں ایچ آئی وی کے وائرس زدہ افراد کی تعداد زیادہ ہے اور دوسرا بڑا ذریعہ مرد کے جنسی تعلقات جن میں ہیچڑ ے بھی شامل ہیں جب کہ تیسرا بڑا ذریعہ خاتون کے ساتھ جنسی روابطہ قائم رکھنا ان سے بھی یہ وائرس جسم میں منتقل ہو سکتا ہے، اور بدقسمتی سے بلوچستان میں انجکشن کے ذریعے نشہ لینے والے افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور بالخصوص نوجوان نسل اس میں زیادہ مبتلا ہو رہی ہے بلکہ خواتین بھی انجکشن کے ذریعے نشہ لینے کی لت میں مبتلا ہیں ایچ آئی وی کا وائرس جو کہ ایک خوف کی علامت بن چکا ہے اور اگر ہمیں پتہ چلے کہ فلاں شخص ایڈز کا شکار ہے تو نہ صرف ان کے قریب جانے سے گریز کرتے ہیں بلکہ ہر قسم کا تعلق اور سماجی تعلق بھی ہم ختم کر دیتے ہیں کیونکہ ہمیں یہ خوف محسوس ہوتا ہے کہ کسی متاثرہ شخص سے اگر ہاتھ ملایا یا ان کے ساتھ اُٹھنا اور بیھٹنا شروع کیا تو ہم بھی ایڈز کا شکار ہو سکتے ہیں، جب کہ اس طر ح کی بات بالکل نہیں ہے ایچ آئی وی ایڈز کے متاثرہ کسی بھی شخص کے ساتھ اُٹھنے یا بیھٹنے ، ان کے کھانسنے یا چھینکنے اور ہاتھ یا ان کو گلے لگانے یا ایک غسل خانے اور سوئمنگ پول میں نہانے ، چو منے اور ان کے ساتھ کھانا کھانے یا پھر ان کے برتن کو استعمال کرنے اور ایک ہی بیت الخلاء استعمال کرنے سے یہ وائرس ہمارے اندر منتقل نہیں ہوتے ہیں بلکہ ہم اپنے آپ کو ایچ آئی وی سے بچانے کے لئے یہ طر یقے اختیار کرسکتے ہیں کہ ہمیشہ انجکشن لگواتے وقت نیا سرنج استعمال کریں ، انتقال خون سے پہلے خون کا ایچ آئی وی سمیت دیگر امراض کا ٹیسٹ کروانا ضروری ہے اور ہم غیر محفوظ جنسی رویوں سے پرہیز کریں اور اپنے آپ کو اپنے جیون ساتھی تک ہی محدود رکھیں ۔
قارئین ایچ آئی وی ایڈز بلوچستان کا بھی اسی طرح کا مسئلہ ہے جس طرح ہم انہیں دوسروں کا مسئلہ قرار دیتے ہیں بلکہ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ مغربی دنیا اور دیگر ممالک میں لوگ ترقی یافتہ ہونے اور جاننے کی بدولت اپنے آپ کو محفوظ کر رہے ہیں ان لوگوں کو بچپن بلکہ زمانہ طالب علمی سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ ایچ آئی وی کیا ہے کس طرح پھیلتا ہے اور روک تھام کیسے ہو گا وہاں باقاعدہ تعلمی نصاب میں اسے شامل کیا گیا ہے اصل مسئلہ تو ہمارا ہے کہ اول تو تعلیم کی شرح پاکستان لیول پر بہت ہی کم ہے اور بلوچستان میں تو شرح خواندگی پورے ملک کی نسبت انتہائی کم ترین ہے اس لئے ایچ آئی وی ایڈز کے حوالے سے عوام میں آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے بلوچستان ملک کا پسماندہ اور غریب ترین صوبہ ہے یہاں کے لوگ بڑی تعداد میں محنت و مزدوری کے لئے عرب ممالک اور ملک کے بڑے شہروں میں موجود ہیں ، ملک بھر میں ڈرائیوروں کی ایک بڑی تعد اد کا تعلق بھی بلوچستان سے ہے اس سلسلے میں بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں لوگوں میں ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاوُ سے متعلق آگہی بہت کم ہے اور اس وقت ایڈ ز کنٹرول پروگرام کے تحت بلوچستان میں 6 اضلاع کو ایچ آئی وی ایڈز کے سلسلے میں ہائی رسک اضلاع قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان اضلاع میں ایچ آئی وی کے وائرس سے متاثرہ مریضو ں کی تعداد دوسرے اضلاع کی نسبت زیادہ ہے ان اضلاع میں تربت ، گوادر ،کوئٹہ شیرانی ژوب اور نصیر آباد شامل ہیں بلوچستان کے وہ علاقے چہاں پر کان کنی ، ڈرائیورز ، ماہی گیری سمیت دیگر شعبہ جات موجود ہیں وہاں پر سروے اور سکریننگ کے تحت جو رپورٹ سامنے آ رہی ہیں اس کے مطابق یہ مہلک مر ض بڑھتا جا رہا ہے پی اے سی پی کے ایک رپورٹ کے مطابق گڈانی جیل میں ایک اویرنیس سیشن کے دوران جب 384 قیدیوں کا سکریننگ ٹیسٹ کیا گیا تو ان میں سے 27 قیدیوں کے ٹیسٹ پازیٹو آئے ، یہ ایک المیہ ہے اور اس سے نمٹنا ضروری ہے مطلب ایچ آئی وی کا راستہ روکنا ہے اور لوگوں کو اس مہلک مر ض سے بچانے کے لئے انہیں ہر سطح پر آگاہی دینی ہو گی بلوچستان میں ایک سروے کے مطابق خطرناک حد تک ایڈز کے مریضوں کی تعداد بڑھ چکی ہے سروے کے مطابق بلوچستان میں اب تک ایڈز میں مبتلا افراد کی جو متوقع تعداد سامنے آئی ہے وہ 3500 ہے بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت اس وقت ایڈز کے صرف رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 852 ہو چکی ہے اور یہ تعداد گزشتہ دو سالو ں کے نسبت بڑھ چکی ہے اور اس کے بڑھنے کی اہم وجہ ایڈز کنٹرول پروگرام کا کوئٹہ اور تربت سمیت بلوچستان بھر میں اگہی مہم ہے جس سے ایڈز کے چھپے ہوئے مریضوں کا سامنے آنا اور ٹیسٹ کے لئے ذہنی طور پر تیار ہونا شامل ہے اور یہ تعداد ابھی بڑھے گی کیونکہ ہمارا پہلا ہدف ان چھپے ہوئے مریضوں کا خوف ختم کرنا ہے بی اے سی پی نے کوئٹہ اور تربت میں ایڈز تھراپی سنٹر بھی قائم کئے ہیں جب کے مذید چھ سینٹر بھی مختلف اضلاع میں کھولے جا رہے ہیں اس کے علاوہ ایڈز کنٹرول پروگرام کی اس سال شاندار کارکردگی میں اضافہ یہ بھی ہوا کہ بلوچستان کے 28 اضلاع میں اسکریننگ سینٹرز بھی قائم کئے ہے جب کہ علاج و معالجہ پر بھی بھرپور وسائل خرچ کئے جا رہے ہیں اس وقت ایڈز کے 852 رجسٹرڈ مریضوں میں سے 511 کا فری علاج و معالجہ جاری ہے گو کہ
پراونشل ایڈز کنٹڑول پروگرام بلوچستان نے اپنی کاوشیں بہتر انداز میں جاری رکھی ہیں اور گزشتہ سال بلوچستان میں ایچ آئی وی ایڈز پر فعال انداز میں
کام کر نے والے اداروں اور این جی اوز کو ایک پلیٹ فارم پر لانے اور بلوچستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے روک تھام اور عوامی آگہی مہم کو موثر انداز میں چلانے کےلئے بلوچستان ایڈز کنٹرول نیٹ ورک کا قیام بھی عمل میں لایا ہے جوکہ ایک قابل تحسین اقدام ہے علاوہ ازیں پی اے سی پی نے ژوب و شیرانی قلعہ سیف اللہ نصیر آباد گڈانی اور لسبیلہ میں میپنگ سٹڈی کا
پروگرام بھی شروع کیا ہے ۔
بلوچستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے مر یضوں کی تعداد اگرچہ ایک لحاظ سے ہمیں کم نظر آ رہی ہے مگر بلوچستان ہائی رسک پر ہے اور اس مرض کے مریضوں کی نہ صرف تعداد بڑھ سکتی ہے بلکہ یہ مرض مزید پھیل بھی سکتا ہے اور اس پر فوری تو جہ کی ضرورت ہے ایک مسئلہ اور بھی ہے کہ ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا لوگوں کے خوف و ڈر کو ختم کرنے پر بھی کام کرنا ہو گا کیونکہ ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا لو گ اپنی مرض کو چھپاتے ہیں اور وہ کسی سے بھی رابطہ نہیں کر تے ہیں دوسری جانب ہمارے رویے بھی ان مریضوں کے ساتھ ٹھیک نہیں ہوتے ہیں لہذا ایڈز کے مریض سے نفر ت نہیں کرنا چاہئے ایچ آئی وی کے روک تھام میں جہاں پر سماجی تنظمیں ڈاکٹرز سماجی کارکنان اور دیگر طبقات اہم رول ادا کر سکتے ہیں تو وہاں پر علماء کرام کے موثر ترین رول کو ہم کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں علماء کرام کسی بھی مصیبت خاص طور پر ایچ آئی وی ایڈز سے قوم کو بچا نے میں
ہراول دستے کا کام دے سکتے ہیں علماء کرام متاثرہ افراد ان کے خاندانوں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں اور ان پر لگے بدنامی کے داغ دھونے اور ان سے نفرت کے خاتمے کے لئے بھی بہت موثر ثابت ہو سکتے ہیں ، بلکہ عوام الناس کی اخلاقی اور سماجی اقدار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور ایڈز سے بچاوُ کے لئے لوگوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں صاف ستھر ی زندگی گزارنے کی تلقین کر سکتے ہیں روئے زمین پر اللہ کی محبت کے روحانی نمائندوں کی حثیت سے دینی رہنماء ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ لوگوں میں زیادہ عرصے تک جینے ، با معنی اور پر وقار زندگی گزارنے کی لگن اور تمنا پیدا کر سکتے ہیں بجائے اس کے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ لعن طعن یا تقریق کا رویہ برتا جائے اور انہیں احساس ندامت سے زیر بار کیا جائے علماء کرام کی ہمدردی متاثر ہ افراد کے لئے اُمید ، علاج معلومات روک تھام اور دیکھ بھال کے راستے کھول سکتی ہے لہذا علماء کرام اس موذی مرض سے انسانوں کو بچانے اور جنسی بے راہ روی اختیار کرنے اور ایڈز کا موجب بننے والے دیگر ذریعے مثلا انجکشن کے ذریعہ نشہ ، انتقال خون کے دوران غیر تشخصیں شدہ خون اور غیر فطری جنسی تعلق سے لوگوں کو بچانے میں اہم ترین کردار ادا کر سکتے ہیں آج ایڈز کی روک تھام کے لئے عالمی دن کے موقع پر پاکستان بھر میں یہ دن منایا جا رہا ہے مگر بلوچستان میں پہلی بار صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کی خصوصی دلچسپی اور بلوچستان ایڈز کنٹرول نیٹ ورک کے معاونت سے
بھرپور انداز میں منایا جا رہا ہے کوئٹہ میں میگا ایونٹ کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی واک اور سیمیناروں کا اہتمام کیا گیا ہے اور یہ اچھی بات ہے کہ بلوچستان میں اس مہلک بیماری کے خلاف موثر طور پر کام کا آغاز تو کیا گیا ہے مگر اب بھی اس کام کو دیر پا اور کامیاب بنانے کے لئے عالمی اداروں اور حکومت بلوچستان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔

تحریر: وطن یار خلجی اساس بشکریہ : پینانیوز
نوٹ: ادارے کا اس قلم کار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

loading...