اشاعت کے باوقار 30 سال

حدیبیہ کیس: نیب کہانیوں کے بجائے ثبوت پیش کرے

حدیبیہ کیس: نیب کہانیوں کے بجائے ثبوت پیش کرے

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں حدیبیہ پیپرز مل کیس کھولنے سے متعلق نیب کی اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ جے آئی ٹی نے کچھ کیا نہ ہی نیب نے، پیسے ادھر چلے گئے ادھر چلے گئے یہ سب کہانیاں ہیں، نیب کہانیوں کے بجائے ثبوت فراہم کرے، نیب کو بہت سارے قانونی لوازمات پورے کرنے تھے، 2000 لاہور ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ نیب ہمارے ساتھ کھیل نہ کھیلے بد قسمتی سے آج بھی یہی کہنا پڑ رہا ہے۔ جرم بتانا ہو گا، صرف بیانات پر بھروسہ نہیں کر سکتے، عدالت میں بادی النظر کا لفظ استعمال نہ کریں سیدھا موقف اپنائیں۔ اگر اسحاق ڈار کو نکال دیا جائے تو آپ کے پاس نیا کیا ثبوت ہے؟ 1992 سے 2017 تک آ گئے، ابھی بھی ہم اندھیرے میں ہیں، دراصل ہوا کیا ہے، معلوم نہیں، اس کا بیان اْس کا بیان، یہ سب کیا ہے؟ چارج کس نوعیت کا ہے سمجھ نہیں آ رہا، ہمارے صبر کا امتحان نہ لیں۔ منگل کو حدیبیہ پیپر ملز کیس کھولنے سے متعلق نیب کی اپیل پر سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کی، کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس مشیر عالم نے نیب پراسکیوٹر کو ہدایت کی کہ کاروائی شروع ہونے سے پہلے نیب کی قانونی ٹیم عدالت کو ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے میں تاخیر کی وجوہات پر مطمئن کریں، اس پر نیب کے سپیشل پراسکیوٹر عمران الحق کا کہنا تھا کہ گزشتہ سماعت پر جے آئی ٹی رپورٹ کے نئے شواہد کی بات کی تھی اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے حدیبیہ کیس سے متعلق جے آئی ٹی سفارشات اور پانامہ لیکس سے متعلق اقلیتی فیصلہ پڑھ کر سنایا تو جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ہم نے صرف اکثریتی فیصلہ پڑھنے کو کہا ہے، اس پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ پانامہ فیصلے کے بعد نیب کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس پر جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے استفسار کیا کہ کیا حدیبیہ کے حوالے سے پانامہ فیصلے میں ہدایات تھیں جس پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ حدیبیہ کا ذکر پانامہ فیصلے میں نہیں ہے اس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ پانامہ فیصلے کو حدیبیہ کے ساتھ کیسے جوڑیں گے؟ جسٹس مظہر عالم نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی سفارشات پر کیا عدالت نے حدیبیہ بارے کوئی ہدایت کی؟ عمران الحق کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ تکنیکی بنیادوں پر دیا جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے اپنی رائے دی ہے مجرمانہ عمل کیا ہے وہ بتا دیں، ممکن ہے یہ انکم ٹیکس کا معاملہ ہو جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ عدالت کو نیب آرڈینینس کے سیکشن 9 بتائیں، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ پیسے ادھر چلے گئے ادھر چلے گئے یہ کہانیاں ہیں، پراسیکیوشن نے چارج بتانا ہوتا ہے، ہم آپ سے ملزمان پر لگایا جانے والا الزام پوچھ رہے ہیں، نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ مئی 1998 کے ایٹمی دھماکوں کے بعد تمام فارن کرنسی اکاونٹس منجمد کر دیے گیے تھے، فارن اکاونٹ منجمند کرنے سے ملزمان نے اپنا پیسہ نکلوا لیا تھا، اس پر جسٹس مشیر عالم کا کہنا تھا کہ 1992 سے آج 2017 آ گیا ہے الزامات واضح ہونا چاہیے، صدیقہ کے اکاونٹ سے پیسے کس نے نکلوائے نام بتائیں، نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ 164 کے بیان میں اسحاق ڈار نے ان رقوم کے نکلوانے کا اعتراف کیا ہے، اس پر جسٹس مشیر عالم کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں متعلقہ دستاویزات ہمارے سامنے ہونی چاہیے، جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا کہنا تھا کہ بیانات چھوڑیں شواہد بتائیں نہ جے آئی ٹی نے کچھ کیا نہ آپ نے کچھ کیا، بہت سارے قانونی لوازمات بھی نیب کو پورے کرنے تھے، کیا حدیبیہ کے ڈائریکٹرز کو تمام سوالات دیئے گئے، نیب پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ ہم نے ملزمان کو سوالنامہ بھیجا مگر جواب نہیں دیے گئے، ہمارے پاس اصل سوالنامہ نہیں ہے، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ آرٹیکل 13 کو بھی ہم نے مدنظر رکھنا ہے، ممکن ہے یہ کیس بلیک منی یا انکم ٹیکس کاہو، جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ آپ کو مکمل منی ٹریل ثابت کرنا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا کہنا تھا کہ سب باتیں مان لیں تو پھر بھی مجرمانہ عمل بتانا ہے، نیب سیکشن 9A کے تحت تو آپ کوئی بات نہیں کر رہے، پانامہ کیس 184/3 کے تحت چلایا گیا تھا، دوران سماعت سپیشل پراسکیوٹر نیب کا کہنا تھا کہ عدالت اجازت دے تو اسحاق ڈار کا بیان پڑھوں گا اس پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کے بیان کو کس قانون کے تحت دوسرے کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ کیا اسحاق ڈار کے بیان کو کاؤنٹر چیک کیا گیا اس پر نیب پراسیکیوٹر عمران الحق کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کے بیان کی تصدیق کی گئی تھی، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ اسحاق ڈار کی زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں اپنا کیس بتائیں، اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کے علاوہ نیب کے پاس کیا شواہد ہیں، اسحاق ڈار نے یہ سارا عمل کس فائدے کے لیے کیا؟ اس پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کو شریف فیملی کے لیے کام کرنے کے بدلے سیاسی فائدہ ہوا، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ قانونی طور پر اسحاق ڈار کا بیان عدالت یا چئیرمین نیب کے سامنے لیا جانا چاہیے تھا، جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ منی ٹریل کے شواہد جے آئی ٹی سے پہلے اور بعد کے شواہد پر دلائل دیں، 4 اکاونٹس تھے یا 36 ایشو مشترک ہے، جسٹس مشیر عالم نے کہا اگر تاخیر کو عبور کر لیا تو ممکن ہے بات میرٹس پر آ جائے، قانون سب کے لیے ایک ہے بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی ہے۔

loading...