اشاعت کے باوقار 30 سال

نہتے فلسطینیوں کو تخریب قرار دینے کا صہیونی ڈرامہ بے نقاب

نہتے فلسطینیوں کو تخریب قرار دینے کا صہیونی ڈرامہ بے نقاب

رام اللہ: قابض اسرائیل کی طرف سے فلسطینی شہریوں کے خلاف اشتعال انگیزی روز کا معمول ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا صدر مقام تسلیم کرنے کے رد عمل میں فلسطین میں عوامی غم و غصے کی شدید لہر اٹھی ہے۔ فلسطینیوں کے احتجاج کو کچلنے کے لیے قابض اسرائیلی فوج کے طاقت کا اندھا دھند استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایمبولینسوں، رضاکاروں اور طبی عملے کو نشانہ بنانے کے لیے صہیونی فوج کی طرف سے کئی طرح کے بہانے تراشے جا رہے ہیں۔ ایمبولینسوں کو حملوں کا نشانہ بنانے کے لیے یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ نقاب پوش فلسطین مظاہرین ایمبولینسوں کو اپنی سواریوں کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ وہ ایمبولینسوں کے ذریعے اسرائیلی فوج پر دھاوے بولتے، سنگ باری کرتے، پٹرول بم پھینکتے، ٹائر جلاتے اور اسرائیل کے قریب پہنچنے پر ایمبولینسوں پر سوار ہو کر بھاگ جاتے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں کچھ فلسطینیوں کو ایمبولینسوں سے اترتے کر اسرائیلی فوج پر سنگ باری کرتے دکھایا گیا ہے۔ صہیونی فوج نے اس واقعے کو ایمبولینسوں کے خلاف کارروائی کے لیے جواز کے طور پرپیش کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی درعی نے سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج پوسٹ کی ہے۔ اس میں فلسطینی ہلال احمر کی ایک ایمبولینس کو فوکس کیا گیا ہے جس سے فلسطینی نقاب پوشوں ایک گروپ اترتا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’ہم اس طرح جرائم بے نقاب کرتے ہیں، اس کے بعد ہم کیسے ہلال احمر کی طرف سے زخمیوں کی بیان کردہ تعداد کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف العربیہ چینل کی جانب سے بھی اسی واقعے کی فوٹیج حاصل کی ہے۔ اس فوٹیج میں اسرائیلی فوج کے دھاوے کا بھانڈہ پھوٹ گیا ہے۔ العربیہ کی طرف سے حاصل کی گئی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے اسرائیلی فوجی ترجمان نے جس ایمبولینس کو فلسطینی مزاحمت کاروں کو لانے کا دعویٰ کیا ہے وہ قابض فوج کی کارروائیوں میں زخمی والے فلسطینیوں کو طبی امداد فراہم کرنے اور اسپتالوں میں لے جا رہی ہے۔ فوٹیج سے پتا چلتا ہے کہ قابض فوج نے ایک فلسطینی لڑکی کو گولیاں ماریں جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئی۔ اس کی ساتھیوں نے اسے اٹھایا اور ایمبولینس میں ڈالا، اسے ابتدائی طبی امدا فراہم کی اور ایمبولینس کی مدد سے اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ قابض فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایمبولینس کی مدد سے فلسطینی تخریب کاروں کو لایا جاتا ہے۔ دوسری طرف ہلال احمر فلسطین نے بھی ایمبولینسوں کو تخریب کاروں ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کرنے کے الزام کو قطعی بے بنیاد کہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قابض فوج کے ترجمان کا یہ بیان قطعی بے بنیاد ہے کہ سوموار کے روز البیرہ کے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں پر حملوں کے لیے ہلال احمر کی گاڑیوں کے ذریعے فلسطینی نوجوانوں کو لایا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جن فلسطینیوں کو نقاب پوش نوجوان قرار دیا وہ لڑکیاں تھیں جو اپنی ایک زخمی ساتھی کو طبی امداد فراہم کر رہی تھیں۔ ہلال احمر کے طبی عملے نے زخمی فلسطینی لڑکی کو فوری طبی امداد فراہم کی جس کے بعد اس کی ساتھی اسے اسپتال لے گئی تھیں۔ خیال رہے کہ حالیہ چند ایام کے دوران اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں کے دوران 1300 سے زاید فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔

loading...