اشاعت کے باوقار 30 سال

دنیا بھر میں ٹرمپ کے خلاف پرتشدد مظاہرے

دنیا بھر میں ٹرمپ کے خلاف پرتشدد مظاہرے

اسلام آباد ،رملہ، استنبول ،بیروت ، لبنان: مشرق وسطی سمیت دنیا بھر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور سفارت خانے کو تل ابیب سے منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف پر تشدد مظاہروں کی نئی لہر کا آغاز ہو گیا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر کے فیصلے پر ترقی یافتہ ممالک نے بھی سخت تنقید کی۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے جہاں بچوں کا قتل عام ہوتا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق رجب طیب اردوگان نے فلسطین کے معاملے پر ٹرمپ کے فیصلے کو دنیا میں امن تباہ کرنے کی سازش بھی قرار دیا۔ خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے حالیہ یورپی دورے میں فرانسیسی صدر سے پیرس اور یورپین یونین کے وزرا سے برسلز میں ملاقاتیں کی ہیں۔ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے بعد سے فلسطین میں اسرائیلی فورسز کے حملوں میں تاحال 4 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب امریکی فیصلے کے خلاف پاکستان، ترکی، ملائیشیا، اردن، لبنان، انڈونیشا اور مصر سمیت دیگر ممالک میں سیکڑوں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ لبنان میں مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے ٹرمپ مخالف نعرے لگائے اور امریکی صدر کا پتلہ بھی نذر آتش کیا۔ مظاہرین کی جانب سے سفارت خانے میں داخلے کی کوشش پر لبنانی فورسز نے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں، آنسو گیس کی شیلنگ کی اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جس سے متعدد مظاہرین زخمی ہوئے۔ ادھر جکارتہ میں تقریبا 5 ہزار انڈونیشائی باشندوں نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی میں امریکی سفارت حانے کے سامنے احتجاج کیا۔ قاہرہ کی درس گاہ جامعہ الازہر کے ہزاروں اساتذہ اور طالب علموں نے امریکی فیصلے کے خلاف احتجاج کیا اور جامعہ الازہر کے ترجمان نے بتایا کہ قاہرہ کی دیگر 2 درس گاہوں میں بھی طلبہ نے احتجاج کیا۔ فلسطین کے وزیر صحت نے بتایا کہ العرب پناہ گزین کیمپ میں پرتشدد احتجاج میں ربر کی گولی لگنے سے ایک فلسطینی کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ واضح رہے کہ امریکی نائب صدر مائیک پینس کا 20 دسمبر کو مشرق وسطی کا دورہ متوقع ہے تاہم فلسطینی صدر محمود عباس نے ان سے ملاقات سے انکار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیت المقدس کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ واپس لیں۔مصر میں عیسائیوں کے پیشوا پاپ ٹاواڈورس نے بھی امریکی نائب صدر سے ملاقات سے انکار کردیا ہے جب کہ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے فیصلے سے لاکھوں عربوں کے جذبات کو ٹھس پہنچی ہے۔ عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو منسوخ کرے جو بین الاقوامی قراردادوں کے منافی ہے۔ ہنگامی اجلاس میں کہا گیا کہ مذکورہ فیصلے سے امریکا کی اپنی حیثیت قابضین کی ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے بیت المقدس کے بارے میں اشتعال انگیز اعلان کے بعد فلسطینی تیسرے روز بھی سراپا احتجاج رہے جب کہ 24 گھنٹوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 8 ہو چکی ہے۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس نے حماس کی جانب سے غزہ سے راکٹ فائر کیے جانے کے جواب میں فلسطین کے عسکری گروپ حماس کے خلاف فضائی کارروائیاں کی۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فورسز نے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں، آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ کی، جس کے تنیجے میں جمعرات اور ہفتے کے دوران 11 سو فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔

loading...