اشاعت کے باوقار 30 سال

فلسطینی صدر کی امریکی نائب صدر سے ملاقات منسوخ

فلسطینی صدر کی امریکی نائب صدر سے ملاقات منسوخ

مقبو ضہ بیت المقدس : فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے متنازع فیصلے کے بعد نائب صدر مائیک پینس سے رواں ماہ کے آخر میں متوقع ملاقات کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق محمود عباس کے سیاسی مشیر ماجدی الخالدی کا کہنا تھا کہ 'فلسطین میں امریکا کے نائب صدر مائیک پینس سے کوئی ملاقات نہیں ہو گی ان کا کہنا تھا کہ 'امریکا نے بیت المقدس کا فیصلہ کر کے تمام سرحدیں عبور کر لی ہیں ۔ دوسری جانب فلسطین میں امریکی فیصلے کے تیسرے روز بھی شدید احتجاج کیا گیا جس کے نتیجے میں اب تک 4 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں جب کہ عالمی برادری کی جانب سے بھی اس فیصلے پر تنقید کی جارہی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں بھی برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت 5 یورپی ممالک نے امریکا کے فیصلے کی کھل کر مخالفت کی اور مشترکہ اعلامیے میں اس فیصلے کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔ مصر کے پوپ ٹواڈروز ٹو نے بھی مائیک پینس سے چرچ میں طے شدہ ملاقات کو ختم کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے استقبال سے گریز کا مقصد کروڑوں عربوں کے احساسات کے حوالے سے ٹرمپ کے ناکام فیصلے کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔ ادھر فلسطین میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ واقعے میں غزہ میں شہری آبادی پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں 2 فلسطینی جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے ہی مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایت کر دی تھی۔

loading...