اشاعت کے باوقار 30 سال

پاکستان اسٹیل کی زمین کے نرخ کا از سر نو تعین

پاکستان اسٹیل کی زمین کے نرخ کا از سر نو تعین

اسلام آباد: پاکستان اسٹیل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اہم اجلاس 12 دسمبر کو طلب کر لیا گیا جس میں اسٹیل ملز کے ریٹائرڈ ملازمین کے لیے پراویڈنٹ فنڈ اور گریجویٹی کی مد میں 11 ارب روپے کا پیکیج منظوری کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اسٹیل کے ریٹائرڈ ساڑھے 3 ہزار ملازمین مئی 2015 سے پراویڈنٹ فنڈ اور اپریل 2013 سے گریجویٹی سے محروم ہیں اور اب ان ملازمین کو یکمشت بقایا جات کی ادائیگی کے لیے 11 ارب روپے کا پیکیج منظوری کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے، بورڈ سے منظوری کے بعد اس پیکیج کو حتمی منظوری کے لیے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اسٹیل ملز کے ریٹائرڈ ملازمین کو بقایا جات کی مد میں 30 جون 2017 تک مجموعی طور پر 10 ارب 86 کروڑ 65 لاکھ روپے ادا کیے جانے ہیں جس میں گریجویٹی 5 ارب 31 کروڑ اور پراویڈنٹ فنڈ کا حصہ 4 ارب 42 کروڑ روپے بنتا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب کے خوف کی وجہ سے بورڈ نے اسٹیل ملز کی اراضی پر سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زون کے لیے 1500 ایکڑ اراضی کی قیمت کا از سر نو تعین کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے اور اس ضمن میں بورڈ اجلاس میں یہ معاملہ دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ بورڈ ذرائع کے مطابق اراضی کی قیمت کا تعین مارکیٹ ویلیو پر کیا جائے گا، کم قیمت پر اراضی فروخت کی گئی تو یہ سیدھا نیب کیس بنے گا۔ ذرائع کے مطابق بورڈ کے گزشتہ اجلاس میں فی ایکڑ زمین 1 کروڑ 30 لاکھ روپے پر فروخت کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ تاہم کراچی میں زمینوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اب ازسرنو تعین کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بورڈ کی جانب سے اراضی کی قیمت کا از سر نو تعین کرنے کے فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ گزشتہ اجلاس میں کم قیمت پر اراضی فروخت کرنے کی منظوری دی گئی تھی، اس لیے بورڈ نے اپنے سابقہ فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سے قبل زمین کی قیمت کا تعین نجکاری کمیشن سے کرایا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اراضی کی قیمت کا حتمی تعین نہ ہونے سے اقتصادی زون کے قیام میں بھی تاخیر ہو سکتی ہے۔

loading...