اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

صدام حسین کو گرفتار کر لیا گیا

مریم نواز نے میرے متعلق جو ٹویٹ کئے ان کے جوابات وہی دیں گی

مریم نواز نے میرے متعلق جو ٹویٹ کئے ان کے جوابات وہی دیں گی

اسلام آباد: سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ موروثی سیاست کا مخالف ہوں۔ مریم نواز نے پارٹی چھوڑنے پر میرے متعلق جو ٹویٹ کئے ان کے جوابات وہی دیں گیں۔ تحریک انصاف اشاروں پر چلتی ہے جو آئین اور پارلیمنٹ کے خلاف کام کر رہی ہے، عمران خان نے شوکت خانم کے پہلے آف شور کمپنی میں لگائے ایک لیڈر کے لئے یہ اخلاقی طور پر درست بات نہیں، نواز شریف کی اقامہ کمیٹی پر نا اہلی درست نہیں۔ بدھ کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ ملک کو چلانے کا کام سیاستدانوں کا ہے، مسلم لیگ کے معاملات اتنے بھی اچھے نہیں ہیں۔ مسلم لیگ نے ملک بنایا۔ ملک بنانے والوں کی اولادوں کو ادھر اُدھر نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے پارٹی چھوڑنے پر میرے متعلق جو ٹویٹ کئے ان کے جواب وہی دیں گی۔ مریم نواز نے میرے متعلق ٹویٹ تب کئے جب وہ سیاست میں آ رہی تھیں۔ مریم نواز تو اس وقت سیاست میں بھی نہیں تھیں۔ مریم نواز کو جب چیزوں کا پتہ چلا تو آج وہ مجھے ویلکم کر رہی ہیں۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ مجھے معلوم تھا کہ میں مسلم لیگ چھوڑ کر جس پارٹی میں جا رہا ہوں وہ آئین و قانون اور اسمبلیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ملک میں جاری ایک نظام کے لئے جنگ کا میں سپاہی ہوں۔ پی ٹی آئی اشاروں پر چلتی ہے۔ پی ٹی آئی آئین اور اسمبلی کے خلاف متحرک ہے ۔ آئین اور اسمبلی کے خلاف کردار پر پی ٹی آئی چھوڑنی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ جو رہنما ملک چلا سکتے تھے انہیں چلنے نہیں دیا گیا۔ میری وفاداری پر سوال اٹھتے رہیں ۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں، کل میں نے نواز شریف سے کہا کہ شہباز شریف نے مجھے بڑی سزائیں دیں ۔ نواز شریف پر کڑا وقت ہے۔ میں اقتدار کے لئے مسلم لیگ ن میں نہیں جا رہا۔ جمہوریت میں تن تنہا نہیں رہا جا سکتا پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے جو پارٹی میرے خیالات کے قریب ہے اس میں جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پی پی اور ن لیگ نے حکومتیں گرانے کے لئے کوششیں کیں۔ مدینہ میں مجھے نواز شریف نے کہا کہ آئیں مل کر نظریاتی سیاست کریں۔ عمران خان نے شوکت خانم کے پیسے آف شور کمپنی میں رکھے۔ میں نے عمران خان کو کہا کہ اپ لیڈر ہیں اخلاقی طور پر کسی لیڈر کو حق نہیں ہے وہ اپنا سرمایہ بیرون ملک رکھے فوج کیوں اپنے لوگ اسمبلی میں بھیجتی ہے۔ پاکستانی عوام جس کسی کو بھی خود منتخب کریں گے وہ عوام کے لئے کام کرے گا۔ اگر کوئی بندوق کے زور پر 20 سال حکومت کرے اور کہے کہ میں نے موروثیوں کو ختم کر دیا میں کہوں گا اس کو نشان حیدر دیا جائے۔ موروثیت بادشاہت کی دوسری قسم ہے میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔ موروثیت کے خاتمے کے لئے جمہوریت کو چلنے دیا جائے۔ عوام کو موروثیت ختم کرنے کا موقع دیا جائے۔ اگر کوئی اثاثے ڈکلیئر نہیں کرتا تو یہ چوری ہوتی ہے۔ نواز شریف کی اقامہ کی بنیاد پر نا اہلی درست نہیں۔ اقتدار کے لئے اگر اسٹیبلشمنٹ کے پاس جانا پڑے تو اقتدار نہ ہی لیں تو یہی بہتر ہے۔

loading...