اشاعت کے باوقار 30 سال

خیبر پختونخوا حکومت کا سرکاری ملازمین کے لئے اہم اعلان

خیبر پختونخوا حکومت کا سرکاری ملازمین کے لئے اہم اعلان

پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کی زیر صدارت ہاؤسنگ کے منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہواجس میں سیکرٹری ہاؤسنگ کپیٹن(ر) سید وقار الحسن، ڈائریکٹر جنرل ہاؤسنگ سیف الرحمٰن، ڈپٹی سیکرٹری لوکل گورنمنٹ محمد رفیق خان مہمند، سیکرٹری لاء اصغر علی، ڈپٹی سیکرٹری فنانس محمد شیراز سمیت پی ایچ اے کے اعلی افسران نے شرکت کی۔ڈاکٹر امجد علی نے کہا ہے کہ سستے مکانات کی فراہمی کے لئے زمونگ خپل کور سکیم کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں جن سے سرکاری ملازمین، پنشنرز اور عوام الناس مستفید ہوں گے۔ 5 مرلہ کا پلاٹ اور اس پر مکان کی تعمیر کے لئے مالی سہولت فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس سکیم کے ذریعے ایک مکان پر 17 لاکھ روپے لاگت آئے گی اور اس سکیم سے 2 لاکھ سرکاری ملازمین و پنشنرز کے ساتھ ساتھ عام عوام بھی مستفید ہوں گے۔ ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کو اپنا گھر تعمیر کرنے کے لئے بنک ہوم فنانس کی سہولت کا بندوبست کیا ہے جس سے سرکاری ملازمین اپنا گھر تعمیر کر سگیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سکیم میں 340 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں میں جب سرکاری ملازم ریٹائرمنٹ کے قریب ہوتا تو سب سے پہلے وہ اپنے لئے نئے گھر کی تعمیر کے لئے فکر مند رہتا لیکن موجودہ صوبائی حکومت نے ایک ایسا لائحہ عمل تیار کیا ہے جس سے سرکاری ملازمین اس فکر سے آزاد ہوں گے اور اقساط کی شکل میں اپنا گھر تعمیر کرائیں گے۔ سیکرٹری ہاؤسنگ کیپٹن(ر) سید وقار الحسن نے اجلاس کو اس سکیم کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس سکیم سے 18 لاکھ تک بنک ہوم فنانس کی سہولت فراہم کی جائے گی اور اس سکیم کے تحت سرکاری ملازم 20 سال کی آسان اقساط میں رقم واپس کرے گا اور یہ اقساط اس کی ماہانہ تنخواہ سے کاٹی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ الاٹمنٹ بذریعہ قرعہ اندازی کی جائے گی اور اس کے حصولی کے لئے ڈاؤن پے منٹ 1 لاکھ 50 ہزار سے ہو گی اور بقیہ بنک ہوم فنانس کے ذریعے وصول کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پلاٹ 5 مرلہ پر مشتمل ہو گا اور ایک بار پلاٹ ملنے پر وہ دوبارہ اس سکیم کے لئے اہل نہیں ہو گا۔ ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ ان پلاٹس پر تعمیر قرعہ اندازی کے بعد ایک سال کے اندر ہو گی اور یہ پلاٹ 2 بیڈ روم، ڈرائنگ روم، کچن، برآمدہ، واش رومز اور باؤنڈری وال پر مشتمل ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پلاٹ کی تعمیر ملازمین اپنے ہاتھ سے کریں گے تاکہ وہ اپنی مرضی سے اپنا گھر تعمیر کریں۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نے کہا کہ اس پلاٹ کے حصولی کے لئے صوبائی حکومت کا مستقل ملازم ہونا ضروری ہے جس کی عمر 25 سال سے لے کر 55 سال تک ہو گی اور جس کی تنخواہ کم از کم 50 ہزار ہو گی۔ ڈاکٹر امجد علی نے ہدایت کی کہ ملازمین کی آسانی کے لئے ضلعی سہولت سنٹر قائم کریں جس سے ان کو مفت سروسز فراہم ہو گی۔ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ سرکاری ملازمین اور عوام کے حقوق کے لئے وہ تابر توڑ کوششیں کریں اور ان کے حقوق ان کو دلوائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلوزئی و دیگر اہم ہاؤسنگ سکیمز سے عوام اور سرکاری ملازمین دونوں مستفید ہوں گے۔

loading...