اشاعت کے باوقار 30 سال

تمباکو نوشی یا خود کشی

تمباکو نوشی یا خود کشی

تازہ ترین ریسرچ سے سگریٹ نوشی کے ان نقصانات کا بھی پتہ چلا ہے، جو پہلے معلوم نہیں تھے۔ اس سے صرف پھیپھڑوں کا کینسر ہی نہیں بلکہ اندھا پن، ذیابیطس، جگر اور بڑی آنت کے کینسر جسیی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں۔ تازہ ترین ریسرچ پر مبنی سرجن جنرلز رپورٹ کے نتائج پیش کرنے کے لیے صحت کے شعبے سے منسلک تمام اعلی امریکی عہدیدار وائٹ ہاؤس میں موجود تھے۔ امریکی حکومت کی طرف سے اس نوعیت کی ایک رپورٹ پچاس برس پہلے پیش کی گئی تھی۔ 1964 میں تمباکو نوشی کے نقصانات پر پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سگریٹ نوشی سے پھیپھڑوں کا کینسر ہو سکتا ہے۔ امریکا میں بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے ادارے (سی ڈی سی) کے ڈائریکٹر تھامس فریڈن کہتے ہیں کہ تمباکو نوشی امریکا میں قبل از وقت موت کا سبب بننے والی سب سے بڑی بیماری ہے۔ ان کے مطابق آج بھی نصف ملین امریکیوں کی موت کا سبب تمباکو نوشی بنتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تمباکو نوشی اس سے بھی بدتر ہے، جتنا ہم اسے پہلے خیال کرتے تھے۔ تازہ ترین تحقیقی رپورٹ کے مطابق کثرت سے تمباکو نوشی ذیابیطس کے علاوہ تیرہ اقسام کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو افراد سگریٹ نوشی نہیں کرتے لیکن اس کے دھوئیں میں سانس لیتے ہیں، ان میں دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ امریکا میں قائم مقام سرجن جنرل بورس لوشنیک کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا دورِ جدید میں سگریٹ ہماری سوچ سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ ڈاکٹر لوشنیک کہتے ہیں، سگریٹ بنانے کا طریقہ اور اس کے اندر کے کیمیکل وقت کے ساتھ کافی حد تک بدل گئے ہیں۔ کچھ کیمکل ایسے بھی ہیں جو پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ تیز کرتے ہیں۔ امریکی حکومت نے 2020 تک تمباکو نوشی کرنے والوں کی شرح میں 12 فی صد تک کمی کا ہدف قائم کر رکھا ہے ، لیکن ماہرین کے مطابق اسے پورا کرنا مشکل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سگریٹ پینے والوں میں نظر کے کمزور ہونے یا اندھے پن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین میں سگریٹ نوشی کے اثرات سے نوزائیدہ بچوں میں پیدائشی کٹے ہونٹ، حمل کے دوران پیچیدگیوں کا پیدا ہونا، جوڑوں کا درد اور جسم کی دفاعی صلاحیت میں کمی ہو جاتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر تمباکو نوشی کی شرح کم نہ ہوئی تو امریکا میں ہر 13 بچوں میں سے ایک بچہ آگے چل کر اس سے جڑی کسی بیماری کی وجہ سے جان گنوا دے گا۔
رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ نوجوانوں میں تمباکو کے استعمال کا طریقہ کار تبدیل ہو رہا ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والے بہت سے لوگ زیادہ نکوٹین والے ای سگریٹ، مختلف ذائقوں والے سگار اور شیشہ پینے لگے ہیں۔ گزشتہ دنوں جاری ہونے والی ایک دوسری امریکی تحقیق کے مطابق دنیا میں آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں سگریٹ نوشوں کی تعداد 72 کروڑ سے بڑھ کر تقریبا 97 کروڑ ہو گئی ہے۔ یہ بات تو سب کے علم میں ہے کہ سگریٹ نوشی جسم اور صحت دونوں کے لئے انتہائی خراب ہے۔ تمباکو نوشی کے بہت سے مضر اثرات ہیں جو کہ آپ کے لیے نہ صرف نقصان دہ ہیں بلکہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ سگریٹ نوشی سے پھیپھڑے کو نقصان پہنچتاہے جس کے باعث سانس لینے میں دشواری ہو جاتی ہے۔ اگر ہم تمباکو نوشی سے اموات کی سالانہ تعداد دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ یہ لت انسان کو کس قدر تیزی سے موت کے منہ میں لے جاتی ہے۔ تمباکو نوشی سے ناحق ہو جانے والی موت قبل از وقت اموات میں سے ایک ہے جس سے بچا جا سکتا ہے۔ امریکہ میں ہر سال 430,700 لوگ تمباکو نوشی کے باعث موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تمباکو تیار کرنے والی کمپنیاں ہر سال لاکھوں روپے اپنے پروڈکٹ کی فروخت پر خرچ کرتی ہیں تاکہ وہ آپ کو اور نئی نسل کو کنوینس کر سکیں کہ یہ بہت اچھی چیز ہے اور اس کا استعمال بہت ہیجان خیز ہے لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ تمباکو میں موجود Nicotine سے انسان کو اس کی لت بری طرح پڑ جاتی ہے اور اس کے استعمال سے صحت کی خرابی کے نقصانات بڑھ جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی کو ترک کرنا ہی اس کا سب سے بہترین بچاؤ ہے اور اس کو چھوڑنے کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔ ہمارا جسم قدرتی طور پر ایسا ہے کہ اس میں Healing Property موجود ہے خاص کر ہمارے دل، جگر اور خون کی رگوں میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ وہ خود کو موقع پاتے ہی پہنچنے والے نقصان کو Heal کر لیتے ہیں۔
جب آپ تمباکو نوشی ترک کر دیتے ہیں تو باڈی فورا ہی واپس اپنا فنکشن نارمل طریقے سے کرنا شروع کر دیتی ہے۔ خاص کر جب آپ متواتر صبح غذائیت سے بھر پور خوراک لیں گے اور جسم کو چست و متحرک رکھیں گے تو جگر اور دل اپنا فنکشن صحیح طرح کرنا شروع کردیں گے جیسے ایک نارمل اور صحت مند جسم کرتا ہے چاہے آپ کتنے عرصے تک اس کا استعمال کرتے رہے ہوں۔ اس کے علاوہ ہارٹ اٹیک، اسٹروک (Stroke) اور سرطان میں مبتلا ہونے کے رسک بھی کم ہو جاتے ہیں۔ سگریٹ میں 4,000 قسم کے کمیکل پائے جاتے ہیں ان میں 43 وہ ہیں جو کہ کینسر کا سبب بنتے ہیں اس کے علاوہ Toxics (تیزابی) الگ شامل ہوتے ہیں۔ صرف یہی نہیں سگریٹ میں Nicotine، Tar ، کاربن مونو آکسائیڈ (Carbon Mono oxide) ، امونیا، hydrogen Cyanide ، Formaldehyde ، Arsenic ، اور DDT شامل ہیں۔ ان میں سے اکثر کمیکل ایسے ہیں جو صرف سونگھنے سے ہی جگر میں رہ جاتے ہیں۔ جتنا زیادہ آپ سگریٹ پئیں گے اتنا زیادہ آپ بہتر محسوس کریں گے لیکن اس سے بھی کئی گنا زیادہ آپ کے جگر کو نقصان پہنچے گا۔
’’تمباکو نوشی صحت کیلئے مضر ہے‘‘ یہ انتباہ ہر سگریٹ کے پیکٹ اور ہر نشے کرنے والی اشیا کے اوپر لکھا جاتا ہے۔ حکومت کی طرف سے واضح وارننگ دی گئی ہے کہ اس کا استعمال آپ کی زندگی کو خراب کر سکتا ہے بلکہ آپ کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے لیکن ان سے ہدایتوں کے باوجود مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی تمباکو نوشی کرتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق امریکی خواتین کی کل آبادی کا 22223 تمباکو نوشی کا شکار ہیں۔ دنیا بھر میں 1 لاکھ 40 ہزار خواتین کی تمباکو نوشی کی وجہ سے موت واقع ہو جاتی ہے صرف خواتین ہی نہیں ٹین ایج (Teenage) بچیاں بھی تمباکو نوشی کرتی ہیں جن کی تعداد تقریبا 1 لاکھ سے زائد ہے۔
وہ خواتین جو سگریٹ نوشی یا تمباکو نوشی کرتی ہیں انہیں ایسے ہی نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ مردوں کو کرنا پڑتا ہے مثلا مختلف نوعیت کے کینسر ( جگر،منہ، گردے، پتے، آواز، سانس کی نالی) Respiratory امراض۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ خواتین کو تمباکو نوشی کے سبب دیگر اور بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ وہ خواتین جو بچے میں وقفے کے لئے گولیاں استعمال کرتی ہیں اور سگریٹ نوشی بھی کرتی ہیں ان کو مختلف بیماریوں کا خطرہ ہو سکتا ہے جیسے امراضِ قلب، خون کا جمنا، ہارٹ اٹیک اور اسٹروک۔ ان بیماریوں کا رسک 35 سال کی عمر کی خواتین کو زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اس عمر میں وقفے کی گولیاں استعمال کرنے سے اکثر خواتین کا فشارِ خون بڑھتا ہے اس لئے خواتین کو اپنا بلڈ پریشر متواتر چیک کرانا ضروری ہے۔
حاملہ خواتین کے لیے تو تمباکو نوشی زہر پینے کے برابر ہے، نہ صرف آپ کے لیے بلکہ آپ کے بچے کے لئے بھی۔ تمباکو میں موجود کیمیاوی اجزا خون کی نالی کے ذریعے بچے تک پہنچتے ہیں۔ یہ تیزابی اجزا بچے اور ماں کی زندگی کے لئے شدید خطرہ ہوتے ہیں۔ حاملہ خواتین کا سگریٹ پینا اس لئے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے بچے کی صحت پر اثر پڑتا ہے اس کا وزن کم ہو سکتا ہے، وقت سے پہلے ڈلیوری یا پھر حمل ضائع بھی ہو سکتا ہے۔ وہ نوزائیدہ بچے جن کی ماں نے دورانِ حمل سگریٹ نوشی جاری رکھی ہو پیدائش کے بعد بچے میں بھی Nicotine کا لیول وہی ہو گا جو ایک بڑے کے جسم میں موجود ہو گا۔ صرف یہی نہیں بچے کو بعد ازاں سانس لینے میں دشواری، نزلہ،کان میں تکلیف اور طبیعت کی خرابی ہو سکتی ہے۔ وہ کم عمر بچیاں جو تمباکو نوشی کا شکار ہیں ان کو آگے چل کے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ تمباکو نوشی سے Menopause کے ڈسٹرب ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں اس کے علاوہ ماہواری کا نہ ہونا یا بے حد زیادہ ہونا بھی تمباکو نوشی کے ہی مضر اثرات ہیں۔ سگریٹ نوشی ایک ایسا زہر ہے جسے انسان اپنی خوشی اور مزے کے لئے جسم میں اتارتا ہے یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ اس کے نقصانات میں سب سے بڑا نقصان جان کا چلے جانا ہے۔ لیکن پھر بھی لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے اسے مشغلے کے طور پر زندگی کا حصہ بنا لیا ہے اسی طرح کینسر بھی ایک خطرناک مرض ہے جو کہ ایک دم ابھرتا ہے اور پوری طرح جسم میں پھیل کر انسان کو ختم کر دیتا ہے تمباکو نوشی سے ہونے والا سرطان ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ نے خود موت کو دعوت نامہ دیا ہو۔
سگریٹ نوشی کو خاموش قاتل (Silent Killer) بھی کہا جاتا ہے یہ نام سالانہ 5.4 ملین لوگوں کو مارنے کی وجہ سے لیا جاتا ہے۔ تمباکو نوشی انسان کو الگ الگ طریقوں سے مارتا ہے ان میں سے کینسر، ہارٹ اٹیک اور ایک سے دوسرے کو پہنچنا ہے۔ تمباکو نوشی کے باعث انسانی جسم کے مختلف نوعیت کے سرطان کے مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں مثلا جگر کا سرطان، منہ کا سرطان، آواز کا کینسر، سانس کی نالی کا کینسر، گردے کا کینسر، پیٹ، پھیپھڑے، لبلبے کا سرطان، Leukemia ان میں سب سے زیادہ تمباکو نوشی سے ہونے والا سرطان جگر کا ہے۔ ہر سگریٹ انسان کی زندگی کے 14 منٹ ختم کر دیتی ہے وہ آدمی جو سگریٹ نوشی کرتا ہے اس کے موت کی طرف بڑھنے کے رسک عام انسان جو کہ سگریٹ نوشی نہیں کرتا ہے اس سے دس گنا زیادہ ہیں۔
وہ لوگ جو سگریٹ نوشی میں مبتلا ہیں ان کی عمر کے پندرہ سال عام انسان کی زندگی سے کم ہوتے ہیں۔ سگریٹ نوشی آہستہ آہستہ انسان کو موت کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ صرف وہ آدمی جو کہ سگریٹ استعمال کر رہا ہے یہ نہ صرف اس کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ وہ شخص جو اس کے برابر کھڑا ہے اس کے لیے بھی یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اسے تمباکو نوشی کی ایک قسم Passive Smoking کہا جاتا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں تمباکو نوشی کا استعمال بے حد بڑھا ہے جس کی وجہ میڈیا اور سماجی مسائل ہیں خاص کر نوجوانوں میں اس کا استعمال کافی زیادہ ہو گیا ہے صرف ترقی پذیر ہی نہیں ترقی یافتہ ممالک خصوصا امریکہ میں نوجوان نسل میں اس کا استعمال اس قدر شدید ہو گیا ہے کہ خود حکومت نے بھی اس سلسلے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ اور مستقبل ہوتے ہیں۔ اسی لئے دنیا بھر میں نوجوانوں کی کردار سازی اور صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ایک صحت مند نوجوان اپنے خاندان، ملک و قوم کے لئے مثبت اور تعمیری کام سر انجام دیتا ہے۔ دنیا بھر میں نوجوانوں کی صحت اور دیگر سماجی فرائض کے حوالے سے سکول سے ہی تربیت شروع کر دی جاتی ہے اور خاص طور پر تمباکو نوشی کے نقصانات کے حوالے سے ان کو بچپن سے ہی آگاہ کرنا شروع کر دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں تمباکو نوشی کی وبا تنزلی کی جانب مائل ہے۔ عالمی صحت کو لاحق خطرات میں تمباکو نوشی کی وبا سب سے تباہ کن ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہو کر مر جاتے ہیں جن میں سے چھ لاکھ سے زیادہ افراد خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ تمباکو نوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے دھوئیں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں جن میں سے اسی فی صد لوگ ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں تمباکو نوش لوگوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس اضافے کا بڑا سبب ان ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جاپان اور چائنہ کے ساٹھ فی صد مرد حضرات سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہیں۔ سگریٹ نوش آبادی میں بارہ فی صد خواتین شامل ہیں جب کہ روزانہ ایک لاکھ بچے سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں۔ سگریٹ، پائپ، سگار، حقہ، شیشہ اور تمباکو کو کھانے والا استعمال جیسا کہ پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ اور تمباکو سونگھنا جیسی تمام عادات خطرناک ہوتی ہیں۔ تمباکو میں موجود نکوٹین دماغ میں موجود کیمیکل مثلا ڈوپامائن اور اینڈروفائن کی سطح بڑھا دیتا ہے جس کی وجہ سے نشہ کی عادت پڑ جاتی ہے۔ یہ کیمیکل خوشی یا مستی کی حسیات کو بیدار کر دیتے ہیں جس سے جسم کو تمباکو مصنوعات کی طلب ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ان عادات کو ترک کرنا کسی بھی فرد کے لئے بہت مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ جسم میں نکوٹین کی کمی سے طبیعت میں پریشانی، اضطراب، بے چینی، ڈپریشن کے ساتھ ذہنی توجہ کا فقدان ہو جاتا ہے۔ تمباکو نوشی بہت آہستگی کے ساتھ جسم کے مختلف اعضا کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتی ہے اور ایک فرد کو کئی سالوں تک اپنے اندر ہونے والے نقصانات واضح نہیں ہو پاتے اور جب یہ نقصانات واضح ہونا شروع ہوتے ہیں تب تک جسم تمباکو کے نشے کا مکمل طور پر عادی ہوچکا ہوتا ہے اور اس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریبا چار ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لئے نہایت نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ان میں سے چھ کیمیکل بینزین (پٹرولیم کی پروڈکٹ)، امونیا (ڈرائی کلیننگ اور واش رومز میں استعمال)، فارمل ڈی ہائیڈ (مردوں کو محفوظ کرنے کا کیمیکل)اور تارکول شامل ہیں۔ تمباکو کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہو جاتی ہیں جس سے ہارٹ اٹیک اور سٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس دھوئیں میں موجود کاربن مونو آکسائیڈ گیس ہوتی ہے جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث ہوتا ہے۔ سگریٹ نوش سانس کی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے جس میں برونکائٹس (COPD) اور ایمفی زیما (Emphysema) قابل ذکر ہیں۔ ایفی زیما میں پھیپھڑوں میں ہوا کی جگہیں بڑھ جاتی ہیں اس سے سانس لینے میں دشواری اور انفیکشن یعنی نمونیہ ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ اس حالت میں پھیپھڑوں کے ٹشو ہمیشہ کے لئے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں جس سے مریض کو شدید کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور دمہ کی علامات پیدا ہو جاتی ہیں۔ پھیپھڑوں کا نمونیہ ہونے کی صورت میں پھیپھڑوں کو مناسب آکسیجن نہیں ملتی، جس سے دوسرے اعضا خاص طور پر دماغ بہت متاثر ہوتا ہے اور مریض کا سانس بند ہونے سے موت واقع ہو جاتی ہے۔
تمباکو نوشی کی وجہ سے دل کے دورہ (ہارٹ اٹیک) ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ عام افراد کی نسبت سگریٹ نوش کو دل کی بیماری ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔ تمباکو کا دھواں خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے جس سے دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے اور دل کا دورہ پڑ جاتا ہے۔ سگریٹ نوشی سے دماغ کے سٹروک (Isechemic Stroke) جس میں دماغ کو خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے اور ہیمرج (Hemorrhagic Stroke) جس میں دماغ میں موجود خون کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں، کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی کے دیگر نقصانات بھی ہیں جیسا کہ ہڈیوں کا کمزور ہوکر کولہے کی ہڈی کا ٹوٹ جانا، معدہ کا السر، چہرے اور جسم کی جلد پر جھریاں پڑ جانا۔
تمباکو نوشی کا سب سے زیادہ اور خطرناک نقصان پھیپھڑوں کو ہوتا ہے۔ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تقریبا نوے فی صد لوگ موجودہ یا سابقہ تمباکو نوش ہوتے ہیں۔ جتنے زیادہ آپ سگریٹ پیتے ہیں اتنا ہی پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سگریٹ پینے والی خواتین میں بھی بریسٹ کینسر ہونے کا احتمال بہت بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح تمباکو نوشی منہ گلا خوراک کی نالی (ایسوفیگس) کا کینسر، معدہ کا کینسر ، جگر کا کینسر ، مثانہ کا کینسر، لبلبہ اور گردے کا کینسر کا باعث بھی بنتا ہے۔ دل کی بیس فی صد بیماریاں سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتی ہیں جب کہ دماغ کی کچھ نفسیاتی اور دیگر بیماریوں کا تعلق بھی تمباکو نوشی سے ہے۔ تمباکو چبانے اور سونگھنے والے افراد کو منہ، مسوڑھوں اور گلے کا کینسر ہونے کا بہت امکان ہوتا ہے۔ تمباکو نوش وقت سے پہلے مر جاتے ہیں، جس سے جہاں ان کے خاندان اپنوں کی قربت سے محروم ہو جاتے ہیں وہیں وہ ان کی آمدنی سے بھی محروم ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح تمباکو نوش افراد کے خاندان کے صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور ملکی طور پر بھی صحت کے اخراجات میں اضافہ ہونے سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

تحریر: عفت بتول بشکریہ: پینا نیوز

loading...