اشاعت کے باوقار 30 سال

امریکی و غیر ملکی حکام کا ٹرمپ کو انتباہ

امریکی و غیر ملکی حکام کا ٹرمپ کو انتباہ

واشنگٹن: امریکی اور غیر ملکی حکام نے امریکی صدر ٹرمپ کو انتباہ کیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت کہنے سے باز رہیں، غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس امکان کے پیش نظر کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شاید مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کر لیں، امریکی اور غیر ملکی حکام کو تشویش لاحق ہے جنہیں ڈر ہے کہ اس اقدام سے بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات رونماء ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایسے کسی بھی فیصلے کو اب تک آخری شکل نہیں دی گئی اور ایسا کرنا عشروں پر محیط امریکی پالیسی کی خلاف ورزی ہو گی جس میں مقبوضہ بیت المقدس کی تقدیر کے حوالے سے کسی بھی قسم کا موقف اس وجہ سے اختیار نہیں کیا گیا کیونکہ یہ معاملہ اسرائیل اور فلسطینیوں کو مذاکرات سے حل کرنا چاہئیے۔ اگر امریکی صدر نے ایسا کوئی بھی فیصلہ کیا تو اس کے باعث تمام دنیا کے مسلمان اور فلسطینی مقبوضہ بیت المقدس کے انتہائی مقدس مقامات ’’جنہیں یہودی ٹیمپل ماؤنٹ اور مسلمان حرم الشریف کے نام سے جانتے ہیں‘‘ کی حساسیت کے باعث احتجاج اور مظاہروں پر مجبور ہو جائیں گے۔ ان مقدس مقامات میں الاقصیٰ مسجد جو کہ عالم اسلام کا تیسرا متبرک ترین مقام ہے اور چٹان کا سنہری گنبد بھی شامل ہیں۔ یہ مقام ایک قدیم یہودی عبادت گاہ کا مقام بھی ہے جو یہودی مذہب کی سب سے متبرک جگہ ہے۔ ٹرمپ کے مشیر اور داماد جارڈکشنر کی جانب سے اس بات کی وضاحت کے باوجود کہ ایسا کوئی فیصلہ فی الحال نہیں کیا گیا، ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت ماننے کا اعلان کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ جارڈکشنر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی اور فلسطینی امن بات چیت آگے بڑھانے کی کوششوں کی رہبری کر رہے ہیں جس میں فی الحال کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ امریکی وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے بارے میں کوئی اقدام نہیں اٹھایا جائے گا حالانکہ امریکی صدرنے اپنی انتخابی مہم میں ایسا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ متعدد امریکی عہدیداروں کے مطابق ٹرمپ اس بارے میں ویوور پر دستخط کر سکتے ہیں۔ ایک عہدیدار کے مطابق اس سلسلے میں ٹرمپ ایک حکم نامے سے اپنے ساتھیوں کو سفارت خانے کی منتقلی سے متعلق سنجیدہ منصوبہ بندی کرنے کے لئے دستخط کر سکتے ہیں تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ وہ اس بارے میں کوئی ٹائم ٹیبل قائم کریں گے۔ نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر مزید دو امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے یوروشلم کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرنے کے منصوبے کی خبر کے باعث امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مشرق قریب کے معاملات کا بیورو جس کا سروکار اس خطہ سے ہے سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ خطہ میں واقع ممالک کے کئی سفیروں نے بھی ایسے کسی اقدام کے حوالے سے گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خدشات کا تعلق سکیورٹی صورتحال سے ہے۔ ایک چوتھے امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی انٹلی جنس کا اکثریتی اندازہ یہ تھا کہ امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کئے جانے کے بعد اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے خلاف شدید رد عمل کا خطرہ پیدا ہو گا۔ امریکی اتحادیوں نے امریکہ کی جانب سے یک طرفہ طور پر مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت کہنے پر بے یقینی کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کے لئے سعودی سفیر شہزادہ خالدبن سلمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی حتمی فیصلے سے قبل امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کے سٹیٹس پر کسی بھی اعلان کی وجہ سے امن کے عمل پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے جس کے باعث خطے میں تناؤ میں اضافہ ہو گا۔فرانسیسی صدر امانیل میکرون نے حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں اس امکان پر خدشات کا اظہار کیا ہے جس کے تحت امریکہ یک طرفہ طور پر مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کر لے۔ اردن کے وزیر خارجہ ایمن سفادی نے اردنی سرکاری نیوز ایجنسی پیٹرا میں شائع ایک بیان میں امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ ریکس ٹلرسن کو ایسے کسی اقدام سے باز رہنے کا کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے کسی اقدام سے پوری اسلامی دنیا خصوصاً عرب ممالک میں غم و غصہ بڑھے گا اور تناؤ میں اضافہ ہو گا اور جاری امن کے عمل کو شدید نقصان پہنچے گا۔ فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن کے واشنگٹن میں نمائندہ اعلیٰ حسام زملوت نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو باقائدہ طور پر اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کیا جانا، اسرائیلی اور فلسطینی تنازعہ کے دو ریاستوں والے حل کے لئے ’’موت کا بوسہ‘‘ ہو گا۔ ایسے کسی بھی اقدام کے نہایت تباہ کن اثرات ہوں گے۔ پانچویں امریکی عہدیدار نے کہا کہ فلسطینی اور عرب رہنماؤں کے مقبوضہ بیت المقدس پر اسرائیلی دعوے کی حمایت کے بارے میں خدشات کو شامل غور تو کیا گیا ہے تاہم کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انسداددہشت گردی سے متعلق سابق امریکی عہدیدار کے مطابق ایسا کوئی بھی امریکی اقدام گویا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہو گا۔

loading...