اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

تاریخ کا شدید ترین زلزلہ

زمبابوے کے نئے صدر نے فوجیوں کو اہم وزارتیں سونپ دیں

زمبابوے کے نئے صدر نے فوجیوں کو اہم وزارتیں سونپ دیں

ہرارے: زمبابوے کے نئے صدر ایمرسن منانگاگوا نے نئی کابینہ میں اعلیٰ فوجی افسران کو شامل کر کے انہیں اہم وزارتیں تفویض کر دیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد نئے صدر ایمرسن منانگاگوا نے اپنی پہلی کابینہ تشکیل دے دی ہے جس میں فوجی افسران کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ نئے صدر نے فضائیہ کے ایئر مارشل پیرنس شیری کو وزیر زراعت مقرر کر دیا جب کہ سابق صدر رابرٹ موگابے کا تختہ الٹنے کے بعد قوم سے خطاب کرنے والے فوجی جنرل سیبوسیسو کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپ دیا۔ سابق فوجیوں کی تنظیم کے سربراہ کرس متس وانگوا کو وزیر اطلاعات بنا دیا گیا۔ اعلیٰ ملٹری افسران کو کابینہ میں شامل کرنے پر نئے صدر کو تنقید کا سامنا ہے اور مخالفین کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت کو اہم وزارتیں تفویض کرنا غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔نئے وزیر زراعت پیرنس شیری 1980 میں موگابے کے دور حکومت میں عام شہریوں کے قتل عام میں بھی ملوث تھے۔ زمبابوے کی سیاست میں ملکی افواج کا کردار متنازع رہا ہے اور رابرٹ موگابے کے 37 سال تک برسراقتدار رہنے کی وجہ بھی فوج کی حمایت کو قرار دیا جا رہا ہے۔ نئی کابینہ میں موگابے حکومت کے وزرا کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ حکومت نے ان سابق فوجی افسران کو بھی کیبنٹ کا حصہ بنایا ہے جو ماضی میں سابق صدر موگابے کو سپورٹ کرتے رہے ہیں۔واضح رہے کہ رابرٹ موگابے کی جانب سے اہلیہ کو نائب صدر بنانے کے فیصلے کے بعد فوج نے دارالحکومت کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور موگابے کو ان کی رہائش گاہ میں نظر بند کر دیا تھا جس کے نتیجے میں رابرٹ موگابے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

loading...