اشاعت کے باوقار 30 سال

بوسنیائی مسلمانوں کے قاتل نے بھری عدالت میں زہر پی لیا

بوسنیائی مسلمانوں کے قاتل نے بھری عدالت میں زہر پی لیا

دی ہیگ: ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کے قتل میں ملوث مجرم سلوبوڈن پرالجاک نے سزا کے خلاف اپیل مسترد ہونے پر بھری عدالت میں زہر پی لیا۔ سلوبوڈن پرالجاک بوسنیا کے ان 6 سابق سیاسی رہنماؤں اور فوجی افسران میں شامل ہیں جنہیں ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کے مجرم میں سزا دی گئی ہے۔ سلوبوڈن پرالجاک کو عالمی عدالت انصاف نے 2013 میں 20 سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف مجرم نے اپیل دائر کر رکھی ہے۔ ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں سزا کے خلاف اپیل مسترد ہونے پر سلوبوڈن پرالجاک نے عدالت میں زہر پی لیا۔ کٹہرے میں کھڑے مجرم نے دوران سماعت جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مجرم نہیں ہیں اور وہ اپنی سزا پر زہر پی رہے ہیں۔ جس کے بعد انہوں نے پہلے اپنے ہاتھ بلند کیے اور پھر زہر سے بھری شیشی پی لی، جس پر جج نے فوری طور پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے ایمبولینس منگوا کر مجرم کو اسپتال لے جانے کی ہدایت کی۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے جنگی جرائم ٹریبونل نے 1993 میں بوسنیائی مسلمانوں کی نسل کشی رکوانے میں ناکامی اور ٹھوس اقدامات نہ کرنے پر سلوبوڈن پرالجاک کو مجرم قرار دیا تھا جب کہ اطلاعات کے باوجود منظم منصوبہ بندی کے تحت مساجد پر حملوں اور مسلمانوں کے قتلِ عام پر خاموشی اختیار کی۔

loading...