اشاعت کے باوقار 30 سال

چینی جنرل نے خودکشی کر لی

چینی جنرل نے خودکشی کر لی

بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ کی کرپشن کے خلاف مہم کی زد میں آنے والے ایک چینی جنرل نے اپنے خلاف ہونے والے کرپشن کی تفتیش کے پیش نظر خودکشی کر لی۔ چین کی سرکاری نیوز ایجنسی ژینہوا کی رپورٹ کے مطابق سینٹرل ملٹری کمیشن کے رکن زینگ یانگ کے خلاف سزا پانے والے سابق فوجی افسران سے تعلق کے حوالے سے تفتیش ہو رہی تھے جس کے نتیجے میں انھوں نے دارالحکومت بیجنگ میں واقع اپنے گھر میں خودکشی کر لی۔ خیال رہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے گزشتہ ماہ کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس سے خطاب میں وعدہ کیا تھا کہ وہ کرپشن کے خلاف کارروائی کریں گے جبکہ 2012 سے اب تک فوج کے سینیئر افسران سمیت اپنی ہی پارٹی کے 15 لاکھ کارکنوں کو کرپشن سزائیں دی جا چکی ہے۔ خودکشی کرنے والے 66 سالہ زینگ اس سے قبل ریاست کے ملٹری کمیشن کے سیاسی شعبے کے سربراہ تھے اور کانگریس سے قبل وہ کمیونسٹ پارٹی کی سینٹرل ملٹری کمیشن کا حصہ تھے۔ چینی خبرایجنسی نے کمیشن کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ 'زینگ نے کھلم کھلا ڈسپلن کی خلاف ورزی کی اور قانون کو توڑا جبکہ ان کے بارے میں رشوت لینے کا شک تھا اور وہ ایسے اثاثوں کے مالک تھے جن کی وضاحت نہیں تھی'۔ فوج کا اخبار روزنامہ پیپلز لیبریشن آرمی میں زینگ کی خودکشی کو 'ذمہ داریوں سے بچنے' کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ اخبار نے زینگ کو دورخی انسان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'اپنے وقت کے اعلیٰ اور نامور جنرل نے اپنی زندگی کا خاتمہ اس برے طریقے سے کر دیا اور اپنے منہ سے وفاداری کا راگ الاپنے کے باوجود پیچھے سے کرپشن کرتے رہے'۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'فوج کے پاس بندوق ہے اور ہم کسی کرپٹ عنصر کو اس کے پیچھے چھپنے کی اجازت نہیں دے سکتے'۔ سرکاری خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ ملٹری کمیشن نے کمیونسٹ پارٹی سے خارج کیے گئے اعلیٰ افسران گیو بوکسیونگ اور زو کائیہو سے تعلق کے شہبے میں زینگ سے 28 اگست کو بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ گیو پیپلز لیبریشن آرمی کے سینیئرترین عہدیدار تھے اس قبل وہ کمیشن کے وائس چیئرمین رہے تھے تاہم انھیں کرپشن کے جرم میں 2016 میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔ دوسری جانب زو کائیہو 2015 میں کینسر کے باعث انتقال کر گئے تھے جبکہ اسی دوران ان کے خلاف کرپشن کی تفتیش کی جا رہی تھی۔ شنگھائی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی انسٹیٹیوٹ کے ایک پروفیسر نی لیکسیونگ کا کہنا تھا کہ زینگ ریاست کے ملٹری کمیشن کے سیاسی شعبے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے انتظامی امور کے انچارج تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'وہ طاقت ور تھے اور اپنے 20 سالہ دور میں کتنے اعلیٰ اور چھوٹے افسران کو ان کے عہدوں سے نکال دیا گیا اور مجھے خدشہ ہے کہ اگر تفتیش ہوئی تو ہر سطح کا فوجی افسر متاثر نکلے گا'۔ یاد رہے کہ صدر شی جن پنگ کی جانب سے کرپشن کے خلاف شروع کی جانے والی مہم میں کئی بڑے افسران کے علاوہ اپنی ہی پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں سمیت سینیئر وزرا کو بھی پھانسی دی جا چکی ہے۔ شی جن پنگ نے کرپشن کے حوالے سے قانون پر بات کرتے ہوئے گزشتہ ماہ کانگریس میں اعلان کیا تھا کہ پرانے قانون کو جاری نہیں رکھا جائے گا اور اس کی جگہ نیا قانونی طریقہ کار متعارف ہو گا۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے آئین میں شی جن پنگ کا نام اور نظریہ شامل کرنے کے علاوہ پارٹی آئین میں ترمیم کرتے ہوئے شی جن پنگ کی مسلح فوج پر مطلق حکمرانی، ان کی خارجہ پالیسی کے مزید فروغ اور ’ون بیلٹ ون روڈ‘ کے نام سے مشہور منصوبے کے بنیادی ڈھانچے کے اقدامات کو آئین میں شامل کیا گیا تھا۔ شی جن پنگ نے 2021 میں پارٹی کی صد سالہ سالگرہ تک چینی معاشرے کو ایک ترقی یافتہ معاشرہ بنانے کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے۔

loading...