اشاعت کے باوقار 30 سال

پاکستانی نژاد برطانوی خاتون شبنم چوہدری کے لئے اعزاز

پاکستانی نژاد برطانوی خاتون شبنم چوہدری کے لئے اعزاز

لندن: پاکستانی نژاد برطانوی خاتون شبنم چوہدری برطانیہ کی نیو اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس میں نہ صرف پہلی پاکستانی و ایشیائی بلکہ پہلی خاتون مسلم سپرنٹنڈنٹ بھی بن گئیں۔شبنم چوہدری صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پیدا ہوئیں، مگر ان کی پیدائش کے بعد جلد ہی ان کے والدین برطانیہ منتقل ہو گئے۔ شبنم چوہدری جب 2 سال کی تھیں، تب ان کے والدین نے لندن کے نواحی علاقے نیو ہیم منتقل ہو گئے، جہاں شبنم نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1989 میں شبنم چوہدری نے برطانیہ کی میٹرو پولیٹن پولیس سروس کو جوائن کیا۔ میٹرو پولیٹن پولیس کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق شبنم چوہدری کو پہلی بار 2010 میں ڈٹیکٹو چیف انسپکٹر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ شبم چوہدری کو شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر رواں برس 10 اکتوبر کو پولیس کے اعلیٰ ایوارڈ ’28 کرائم ایوارڈ 2017‘ سے بھی نوازا گیا، جب کہ ساتھ ہی انہیں مزید ترقی بھی دی گئی۔ انہیں اس ایوارڈ کے لیے اگست 2017 میں ہی نامزد کر لیا گیا تھا، جس کے ساتھ ہی انہیں ترقی دے کر ’ڈٹیکٹو سپرنٹڈنٹ‘ بھی بنا دیا گیا تھا۔ انہیں لندن میں پولیس کے شعبے میں انتہائی پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دینے پر 28 سال بعد سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کے والدین پہلے تو ان کی کم عمری میں ہی شادی کروانا چاہتے تھے، اور ان کی جانب سے نوکری کے لیے محکمہ پولیس کو منتخب کرنے پر خفا بھی تھے۔ شبنم چوہدری کے مطابق تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کی سوچ بھی تبدیل ہو گئی۔ پہلی پاکستانی و مسلم خاتون سپرٹنڈنٹ نے کرائم ایوارڈ اور ترقی دیے جانے پر محکمہ پولیس کا شکریہ بھی ادا کیا۔

loading...