اشاعت کے باوقار 30 سال

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف مکمل ہڑتال

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف مکمل ہڑتال

سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور بھارت اور کشمیر کی جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کے خلاف مکمل ہڑتال کی جا رہی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سرینگر اور وادی کشمیر کے دیگر اضلاع میں بھارتی پولیس، فوج اور پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کو بھاری تعداد میں تعینات کیا گیا ہے۔ سرینگر کے علاقوں نوہٹہ، خانیار، رعناواری، مہاراج گنج، صفاکدل، مائسمہ اور کرالہ کھڈ میں سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ہڑتال کی کال سید علی گیلانی، میر واعظٖ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے دی ہے اور اس کی وجہ سے شمالی اور جنوبی کشمیر کے درمیان ریل سروس بھی معطل ہے۔ مزاحمتی قیادت نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت نے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے مذموم مہم شروع کر رکھی ہے کہ علاقے میں امن و امان بحال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی طاقت کے بل پر قبرستان کی خاموشی کو امن کا نام دینا احمقانہ فعل ہے۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے احتجاج کی قیادت سے روکنے کے لیے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو آج سرینگر کے علاقے مائسمہ میں ان کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ ان کی پارٹی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پولیس کی ایک پارٹی صبح سویرے ان کے گھر پہنچی اور انہیں حراست میں لے کر سینٹرل جیل سرینگر منتقل کر دیا۔ قابض حکام نے حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو بھی نگین سرینگر میں ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا جبکہ سید علی گیلانی مسلسل 2010ء سے حیدر پورہ سرینگر میں اپنی رہائش گاہ پر نظربند ہیں۔

loading...