اشاعت کے باوقار 30 سال

بنگلہ دیش نے میانمار کے ساتھ معاہدہ طے کر لیا

بنگلہ دیش نے میانمار کے ساتھ معاہدہ طے کر لیا

ڈھاکہ، میانمار: بنگلہ دیش نے میانمار کے ساتھ ایک معاہدہ طے کر لیا ہے جس کے مطابق میانمار میں فوجی کارروائی کے دوران ہزاروں کی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کو واپس بھیجا جائے گا۔ میانمار کے دارالحکومت نی پیدو میں طے پانے والے اس معاہدے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ بنگلہ دیش کا کہنا ہے یہ پہلا قدم ہے۔ میانمار نے کہا ہے کہ وہ روہنگیا کو ’جلد از جلد‘ واپس لینے کے لیے تیار ہے۔ امدادی اداروں نے روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت کے بغیر ان کی زبردستی واپسی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔ خیال رہے کہ روہنگیا مسلمان بے وطن اقلیت ہیں جنھیں عرصہ دراز سے میانمار میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ اگست میں میانمار کی ریاست رخائن میں شروع ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد نے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں نقل مکانی کی تھی۔ بدھ کو امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ میانمار کی اقلیتی آبادی روہنگیا کے خلاف فوجی کارروائی نسل کشی پر مشتمل ہے۔ میانمار کی فوج نے روہنگیا افراد کے قتل، ان کے دیہات کو نذرآتش کرنے، خواتین اور لڑکیوں کے ریپ اور لوٹ مار کی تردید کی تھی۔بنگلہ دیش سے روہنگیا افراد کی واپسی کا عمل کب شروع ہوگا، یا میانمار کی جانب سے واپسی کی شرائط کیا ہیں، یہ واضح نہیں ہے۔تاہم دونوں ممالک اس مسئلے کی وجہ سے مختلف وجوہات کی بنا پر دباؤ میں ہیں۔بنگلہ دیش اپنے عوام کو دکھانا چاہتا ہے کہ روہنگیا کو مستقبل رہائش نہیں فراہم کی جائے گی جو حالیہ نقل مکانی سے پہلے ہی چالیس ہزار روہنگیا مسلمانوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ دوسری جانب برما کے حکام اور خاص طور ہر رہنما آنگ سان سوچی کو اس بحرن کے حل کے لیے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔

loading...