اشاعت کے باوقار 30 سال

پی ایچ ایف کے خلاف خیبر پختونخوا ہاکی میدان میں آ گئی

پی ایچ ایف کے خلاف خیبر پختونخوا ہاکی میدان میں آ گئی

پشاور: پی ایچ ایف کے خلاف خیبر پختونخوا ہاکی میدان میں آ گئی اور اس نے نیب میں جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ فیڈریشن کے سینئر نائب صدر و چیئرمین کے پی ہاکی ایسوسی ایشن سعید خان اور صوبائی سیکریٹری سید ظاہر شاہ نے الزام لگایا کہ شہباز سینئر نے گزشتہ دو سال کے دوران خلاف آئین 46 کروڑ روپے میں سے 22 کروڑ روپے نقد نکلوائے، صوبائی ہاکی ایسوسی ایشن کی جانب سے پشاور ہاکی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کرنے کی پاداش میں خیبر پختونخوا کی 3 ٹیموں کو نیشنل انڈر 16 ہاکی چیمپئن شپ میں شرکت سے روکا گیا۔وزیر اعظم عہدیداران کو برطرف کرتے ہوئے احتساب کرائیں، انھوں نے پی ایچ ایف میں مبینہ بے ضابطگیوں پر نیب میں درخواست دائر کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی ہاکی ٹیم کی ناقص کارکردگی کے باعث پی ایچ ایف عہدیداران پر تنقید کی جا رہی ہے، سیکریٹری فیڈریشن شہباز سینئر اس حوالے سے اپنی بے بسی کا اظہار کر چکے ہیں، اب پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سینئر نائب صدر و چیئرمین خیبر پختونخوا ہاکی ایسوسی ایشن سابق آئی جی سعید خان، سیکریٹری ہاکی ایسوسی ایشن سید ظاہر شاہ، صوبائی عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس میں فیڈریشن حکام پر الزامات عائد کر دیے ہیں، انھوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن میں سنگین مالی بے ضابطگیاں کی جا رہی ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو پچھلے دو برسوں میں تقریبا 46 کروڑ روپے سے زائد رقم ملی، ان میں تقریبا 22 کروڑ روپے کیش نکالا گیا، سیکریٹری پی ایچ ایف نے 7 اکتوبر 2017 کو 33 لاکھ 23 ہزار 860 روپے صرف اپنے دستخط سے کیش نکالا حالانکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اکاونٹس سے 2 دستخطوں کے بغیر چیک کیش نہیں کرایا جا سکتا، 21 اکتوبر 2017 کو چیک کے ذریعے 2 لاکھ 35 ہزار 500 روپے نکلوائے گئے، 5 اگست 2016 کو چیک نمبر 117 کے ذریعے 20 لاکھ روپے، 12 اگست 2016 کو چیک نمبر 3692200 کے ذریعے عدنان شاہد نے 40 لاکھ روپے، 12 اور 13 اپریل 2017 کو چیک نمبر 563 اور 565 کے ذریعے 33 لاکھ 20 ہزار اور 72 لاکھ 66 ہزار 120 روپے، 21 ستمبر 2016 کو چیک نمبر 211 اور 212 کے ذریعے بالترتیب 20 لاکھ 40 ہزار اور 27 لاکھ 43 ہزار 625 روپے، 10 مارچ 2017 کو چیک نمبر 512 کے ذریعے 65 لاکھ 55 ہزار چار سو روپے نکلوائے گئے۔

loading...