اشاعت کے باوقار 30 سال

اسحاق ڈار کو وزیر بے محکمہ بنا دیا گیا

اسحاق ڈار کو وزیر بے محکمہ بنا دیا گیا

اسلام آباد: اسحاق ڈار کو وزیر بے محکمہ بنا دیا گیا ،وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے مشاورت کے بعد ان سے وزارت خزانہ کا چارج واپس لے لیا جب کہ ان کی تین ماہ کی چھٹی بھی منظور کر لی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی خود وزارت خزانہ کے امور دیکھیں گے، مفتاح اسماعیل معاون خصوصی ہوں گے۔ بدھ کے روز وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو خط لکھا تھا کہ وہ بیمار ہیں اور وزارت خزانہ کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں ،ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے نواز شریف سے مشاورت کے بعد بڑا فیصلہ کیا ہے اور اسحاق ڈار کو وزارت خزانہ کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا گیا ہے ، وزارت خزانہ کے معاملات وزیر اعظم نے خود سنبھال لئے ہیں ۔اسحاق ڈار کی جانب سے وزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وزارت خزانہ کی ذمہ داریاں کسی اورکو دے دی جائیں ،وزیر خزانہ نے لکھا کہ انہوں نے 27 اکتوبر کو تاجکستان میں ایک اجلاس میں شرکت کی اور پھر وہاں سے عمرے کی ادائیگی کے لئے گئے ،عمرے کی ادائیگی کے دوران ہی انہیں سینے میں تکلیف ہوئی جس کے باعث وہ مقامی ڈاکٹر کے پاس گئے مقامی ڈاکٹر نے انہیں امراض قلب کے ڈاکٹر کو دکھانے کو کہا اور پھر 29 اکتوبر کو لندن گیا، 3 نومبر کو انجیوگرافی ہوئی ،6 نومبرکو پھر ٹیسٹ ہوا ڈاکٹر نے مزید کئی ٹیسٹ کرانے کا کہا۔ اگلا ٹیسٹ 27 نومبر کو ہو گا، ڈاکٹر نے سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے ،اس لئے واپس پاکستان نہیں آ سکتا۔ وزیر خزانہ نے لکھا ہے کہ 2013ء میں ملکی معیشت کی کیا حالت تھی؟ 4 سال میں ملکی معیشت میں بہتری آئی جس کا اعتراف عالمی اداروں نے بھی کیا، میں 27 اکتوبر تک اپنی وزارت کے معاملات واٹس ایپ اور ای میل سے چلاتا رہا، 2013ء میں ملک میں 19 کھرب روپے ٹیکس وصول ہوتے رہے جو 2017ء میں بڑھ کر 35 کھرب روپے تک پہنچ گئے ،اس دوران ٹیکس وصولی کی شرح میں 18 فی صد تک اضافہ ہوا اور بجٹ خسارہ میں بھی تیزی سے کمی ہوئی ،اسحاق ڈار نے وزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں مزید لکھا کہ ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا 2013ء میں ملکی زر مبادلہ کے ذخائر ساڑھے 7 ہزار ارب ڈالر تھے جو بڑھ کر 2017ء میں 21 ارب ڈالرز ہو گئے ہیں ملک کی جی ڈی پی گروتھ گزشتہ 10 سال کی بلند ترین سطح پر آئی ، 2017ء میں شرح نمو 6.3 فی صد ہو گئی، جاری ترقیاتی منصوبوں سے ملکی معیشت میں مزید بہتری آئے گی ۔انہوں نے لکھا کہ جولائی 2017ء کے بعد جو صورت حال بنی اس کا ملکی معاشی صورت حال پر اثر پڑا، وزیر خزانہ نے خط میں وزیر اعظم سے اپیل کہ ان کی بغیر تنخواہ چھٹی منظور کی جائے اور وزارت چلانے کے باقاعدہ متبادل انتظامات کئے جائیں یعنی کسی اور کو وزارت خزانہ کی ذمہ داری سونپ دی جائے۔

loading...