اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

پہلے ہوائی جہاز کی پرواز

انعامی اعلانات فوٹو سیشن سے زیادہ کچھ نہیں

انعامی اعلانات فوٹو سیشن سے زیادہ کچھ نہیں

اسلام آباد: ورلڈ باکسنگ کونسل کے عالمی چیمپئن پاکستانی باکسر محمد وسیم اس بات پر سخت خفا ہیں کہ ان کے لیے انعامی اعلانات محض زبانی جمع خرچ اور فوٹو سیشن سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ محمد وسیم آئندہ ماہ کولمبیا کے باکسر کے خلاف اپنے ورلڈ باکسنگ کونسل فلائی ویٹ سلور ٹائٹل کا دفاع کرنے والے ہیں جس کے بعد انہوں نے گولڈ ٹائٹل کے لیے جاپانی باکسر کو چیلنج کر رکھا ہے یہ مقابلہ جاپان میں ہو گا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں بلوچستان کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے عالمی ٹائٹل جیتا تھا تو وزیر اعلی بلوچستان نے ان کے لیے گھر اور دیگر انعامات کا پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا لیکن وزیر اعلی کی طرف سے انہیں پانچ لاکھ روپے کا چیک تھما دیا گیا جبکہ پانچ لاکھ روپے صوبائی وزیر کھیل کی طرف سے دیے گئے۔ محمد وسیم نے کہا کہ جب وعدے پورے ہی نہیں کرنے تو پھر انہیں بلایا کیوں جاتا ہے۔ صرف جھوٹے اعلانات اور فوٹو سیشن کے لیے یہ سب کیا جاتا ہے۔ محمد وسیم نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت کے برعکس وفاقی حکومت نے ان سے کیا گیا وعدہ پورا کیا اوران کے لیے اعلان کردہ دو کروڑ روپے سے زائد کی رقم ان کے پروموٹر کے حوالے کی اس کے علاوہ پاکستان آرمی نے ہمیشہ ان کی مدد اور حوصلہ افزائی کی ہے۔ محمد وسیم نے کہا کہ وہ اپنے لیے پیسے نہیں مانگتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں کوئی اسپانسر کرے تاکہ وہ اپنی پروفیشنل فائٹس کے اخراجات پورے کر سکیں۔ انہیں ٹائٹل فائٹ جیتنے پر ایک ہزار ڈالرز سے ایک روپے بھی زیادہ کی رقم نہیں ملی۔ اسپانسر نہ ہونے کے سبب انہیں بین الاقوامی باکسنگ جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ محمد وسیم نے کہا کہ بلوچستان میں کھیل اور تعلیم کی حالت بہت بری ہے جسے دیکھ کر انہیں بہت دکھ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باکسنگ وہ کھیل ہے جس میں پاکستان نے سب سے زیادہ تمغے جیتے ہیں لیکن یہاں باکسرز کی کوئی پذیرائی اور سرپرستی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اولمپکس میں تمغہ جیتنے والے حسین شاہ بھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔حسین شاہ کی طرح کئی دوسرے انٹرنیشنل باکسرز بھی بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک سے باہر جانے پر مجبور ہوئے کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو آج وہ یہاں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہوتے۔

loading...