اشاعت کے باوقار 30 سال

انڈیا کے آئی سی جے جج کے امیدوار کے لیے راستہ صاف

انڈیا کے آئی سی جے جج کے امیدوار کے لیے راستہ صاف

نئی دہلی: بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) میں انڈیا کے دلویر بھنڈاری کو دوسری مدت کے لیے نامزد کیے جانے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ پیر کے روز برطانیہ نے آئی سی جے کے جج کے عہدے کی دوڑ میں شامل اپنے امیدوار کرسٹوفر گرین وڈ کا نام واپس لے لیا ہے جس کے بعد دلویر بھنڈاری کی نامزدگی کی بہت توقع ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں قید مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کو پاکستانی فوجی عدالت کی جانب سے دی گئی پھانسی کے فیصلے کے خلاف آئی سی جے کا فیصلہ دینے والے بینچ میں دلویر بھنڈاری شامل تھے۔ ان کی موجودہ مدت 15 فروری سنہ 2018 تک ہے اور دوسری مدت کے لیے انھیں برطانیہ کے گرین وڈ سے سخت مقابلے کا سامنا تھا۔گرین وڈ کو سکیورٹی کونسل کی حمایت حاصل تھی جبکہ بھنڈاری کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی حمایت حاصل تھی۔ انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس جیت کی مبارکباد دی ہے۔ جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر خارجہ اور ان کی پوری ٹیم کو اس کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ انڈیا کے اعلیٰ ترین شہری اعزازات میں سے ایک پدم بھوشن سے نوازے جانے والے جسٹس بھنڈاری 40 سال سے زائد عرصے سے ہندوستان میں انصاف کے نظام کا حصہ رہے۔ کبھی ایک وکیل کے طور پر تو کبھی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے جج کے طور پر اور پھر آئی سی جے میں ایک جج کے طور پر۔ جسٹس بھنڈاری سے پہلے انڈیا کے سابق چیف جسٹس آر ایس پاٹھک سنہ 1988۔90 میں بھی آئی سی جے میں اس عہدے پر تھے۔ جسٹس دلویر بھنڈاری نے ایک کتاب 'جوڈیشیل ریفارمز: ریسنٹ گلوبل ٹرینڈز' تصنیف کی ہے۔ خیال رہے کہ آئی سی جے کا قیام سنہ 1945 میں عمل میں آیا تھا اور اس وقت سے پہلی بار ایسا ہو گا کہ وہاں کوئی برطانوی جج نہیں ہو گا۔ آئی سی جے کے 15 ججوں میں سے تین افریقہ سے آتے ہیں اور تین ایشیا سے۔ ان کے علاوہ لاطینی امریکہ اور مشرقی یورپ سے دو دو جج شامل ہوتے ہیں جبکہ پانچ ججز مشرقی یورپ اور دیگر علاقوں سے آتے ہیں۔

loading...