اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

پہلے ہوائی جہاز کی پرواز

اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے کا حکم

اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے کا حکم

اسلام آباد: احتساب عدالت نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کی حاضری سے استثنیٰ اور نمائندہ مقرر کرنے کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت ہوئی تاہم وزیر خزانہ اسحاق ڈار آج بھی پیش نہ ہوئے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل قوسین فیصل کے مطابق ان کے مؤکل علیل ہیں اور علاج کی غرض سے لندن میں ہیں جس کی وجہ سے سماعت میں پیش نہیں ہو سکتے۔ اسحاق ڈار کے وکیل نے اپنے مؤکل کی جانب سے اٹارنی مقرر کرنے اور حاضری سے استثنی کی درخواست کی جنہیں عدالت نے مسترد کر دیا۔ عدالت نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کے آغاز کا حکم دیتے ہوئے ان کے ضامن کو نوٹس جاری کر دیا اور 24 نومبر تک جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے ملزم کو اخبار میں اشتہار شائع کر کے طلب کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ آپ کی 50 لاکھ روپے کی ضمانت ضبط کر لی جائے۔ ریفرنس کی آئندہ سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
دوران سماعت اسحاق ڈار کی تیسری نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس کے مطابق وزیر خزانہ کی دل کی ایک شریان درست کام نہیں کر رہی، انہیں 27 نومبر کو دوبارہ طبی معائنے کے لیے بلایا گیا، ڈاکٹر نے انہیں بین الاقوامی سفر سے منع کیا ہے، اگر ضرورت ہو تو اسحاق ڈار آڈیو وڈیو لنک پر دستیاب ہو سکتے ہیں۔ وکیل اسحاق ڈار قوسین فیصل مفتی نے کہا کہ عدالت نے 8 نومبر کو نیب کو اسحاق ڈار کے میڈیکل سرٹیفکیٹ کی برطانیہ سے تصدیق کرانے کا حکم دیا تھا جس پر عمل نہیں کیا گیا، جو نیب کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔ ادھر نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے میڈیکل رپورٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل رپورٹ تصدیق کے لیے بذریعہ دفتر خارجہ لندن بھجوائی جا چکی ہے، اسحاق ڈار کے برطانوی ڈاکٹر کی میڈیکل رپورٹ برطانوی قوانین کے مطابق بھی نہیں، ملزم مفرور ہے، اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔
آج سماعت میں استغاثہ کے گواہ اور نیب پراسیکیوٹر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ 14 نومبر کو پچھلی سماعت میں پیش نہ ہونے پر احتساب عدالت نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا ہے۔ پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی حتمی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسحاق ڈار کے اثاثوں میں بہت کم عرصے کے دوران 91 گنا اضافہ ہوا اور وہ 90 لاکھ روپے سے بڑھ کر 83 کروڑ 10 لاکھ روپے تک جا پہنچے۔

loading...