اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

پہلے ہوائی جہاز کی پرواز

دھرنے کے پیچھے اہم سیاسی شخصیات کے ملوث ہونے کا انکشاف

دھرنے کے پیچھے اہم سیاسی شخصیات کے ملوث ہونے کا انکشاف

اسلام آباد: اسلام آباد میں 12 نومبر کے بعد شروع ہونے والے سیاسی دھرنے کے پیچھے پنجاب حکومت کی اہم سیاسی شخصیات کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ اور تحریک لبیک یا رسول ﷺ کے درمیان 6 نومبر کو ہونے والے مذاکرات اور مطالبات کے مطابق تحریک لبیک کی جانب سے 12 مطالبات پیش کئے گئے جن میں سے چوتھے نمبر پر درج مطالبہ کے مطابق رانا ثناء اللہ جو کہ وزیر قانون پنجاب ہے کی جانب سے ختم نبوت کے متعلق کلمات کفریہ ادا کرنے کی پاداش میں شریعت اسلامیہ آئین پاکستان کے مطابق ضروری اقدامات کئے جائیں گے الفاظ درج ہے جبکہ مذکورہ بالا 12 مطالبات میں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد سمیت کسی سیاسی شخصیات کا نام شامل نہیں ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق فیض آباد کے مقام پر دھرنے کے شرکاء جو کہ 6 نومبر کو پنجاب حکومت کے پروٹوکول میں اسلام آباد پہنچنے اور 12 نومبر کو ختم نبوت ﷺ کے متعلق حکومتی غلطی تسلیم کئے جانے کے بعد 12 نومبر کو دھرنے نے سیاسی شکل اختیار کر لی اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ دھرنے کے سیاسی مقاصد سامنے آنے کے بعد تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے قائدین رانا ثناء اللہ کے نام سے بھی پیچھے ہٹ گئے جبکہ انہوں نے الزامات عائد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ پنجاب میں جعلی پولیس مقابلوں میں ان کے گرفتار کارکنوں کو جیلوں سے نکال کر مارا گیا ہے جس کے بعد دھرنے کے مظاہرین کے جذبات کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا اور جیلوں میں قید غازیان اسلام پر بے جا پابندیاں و سختیاں عائد کئے جانے کے حوالے سے بھی مطالبات سامنے آ گئے گزشتہ پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کی جانب سے بھی چد شر پسند عناصرکا ذکر کیا گیا جو کہ دھرنے کے شرکاء کے ساتھ مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے بعد ازاں ایک سوال پر کہ کیا حکمران جماعت کی جانب سے جعلی پولیس مقابلوں میں تحریک لبیک یا رسول ﷺ کے کارکنوں کو مارا گیا ہے؟ وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کا نام مطالبات میں سے نکال کر وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا نام بھی انہیں شرپسند عناصر کی کارستانی ہے؟ جس پر وزیر داخلہ احسن اقبال کی جانب سے جواب دینے سے گریز کیا گیا اور وہ جلدی میں گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے بعدازاں وہاں پر موجود ترجمان وزارت داخلہ یاسر شکیل کی جانب سے بھی اس حوالے سے بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہوم منسٹر صاحب تین بجے دوبارہ میڈیا سے بات کریں گے آپ یہ سوال دوبارہ وہاں اٹھائیے گا کے الفاظ کے ساتھ بات کرنے سے گریز کیا گیا۔

loading...