اشاعت کے باوقار 30 سال

احتجاج ختم کرنے کی دوسری مہلت بھی ختم

احتجاج ختم کرنے کی دوسری مہلت بھی ختم

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں تحریک لبیک کی زیر قیادت مذہبی جماعتوں کا دھرنا جاری ہے اور حکومت کی جانب سے احتجاج ختم کرنے کی دوسری مہلت بھی ختم ہو گئی ہے۔
دھرنے کے شرکا ختم نبوت سے متعلق آئینی شقوں میں ردو بدل کرنے والوں کے خلاف کارروائی اور وزیر قانون زاہد حامد کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کے چار دور ناکام ہو چکے ہیں اور آج دوبارہ بات چیت کا امکان ہے۔ رات گئے اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین سینیٹر راجہ ظفرالحق کی رہائش گاہ پر حکومتی وفد اور دھرنا قائدین کے درمیان مذاکرات ہوئے تاہم ڈیڈلاک برقرار ہے اور تاحال مسئلے کے حل کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ مذہبی جماعت تحریک لبیک کی مجلس شوری ٰ نے کہا ہے کہ وزیر قانون زاہد حامد کے استعفی ٰ پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا جب کہ حکومت نے مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ فیض آباد میں دھرنے کے مقام پر رینجرز، ایف سی اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ سیکورٹی اہل کاروں کو آنسو گیس کے شیل فراہم کردئے گئے ہیں جب کہ بکتربند گاڑیاں بھی دھرنے کے مقام پر موجود ہیں۔ دھرنے کے شرکا کے خلاف ممکنہ آپریشن کے پیش نظر سرکاری اسپتال ہائی الرٹ ہے جب کہ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ ہیں۔
واضح رہے کہ مذہبی جماعتوں نے فیض آباد انٹرچینج پر 13 روز سے دھرنا دے رکھا ہے جس کے باعث شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دھرنا ختم کرانے کے لیے ہفتے کی صبح 10 بجے تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے حکومت رینجرز کو آپریشن کا حکم دے سکتی ہے۔ تاہم وزیر داخلہ احسن اقبال نے آپریشن کو 24 گھنٹے کے لیے مؤخر کر دیا تھا۔

loading...