اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

پہلے ہوائی جہاز کی پرواز

پاکستان نے چین کی 1400 ارب روپے کی پیشکش ٹھکرا دی

پاکستان نے چین کی 1400 ارب روپے کی پیشکش ٹھکرا دی

اسلام آباد: ایک ایسے وقت پر کہ جب پاکستان کو انفرا سٹرکچر کے دیوقامت منصوبوں کے لئے بھاری سرمایے کی ضرورت ہے، یہ انکشاف واقعی حیران کن ہے کہ چین کی جانب سے 14 ارب ڈالر (تقریباً 1400 ارب پاکستانی روپے) کی پیشکش ٹھکرا دی گئی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پاکستان نے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے چین کی جانب سے فراہم کی جانے والی 14 ارب ڈالرکی فنڈنگ لینے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارتی اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان نے دیامر بھاشا ڈیم کے پراجیکٹ کو پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے سے الگ کرنے کے لئے بھی کہا ہے تاکہ اسے اپنے ذرائع سے تعمیر کیا جا سکے۔ بھارتی اخبار نے پاکستانی اخبار کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ پاکستانی حکام نے سخت شرائط پر چینی فنڈنگ قبول کرنے کی بجائے اپنے ذرائع سے ڈیم کی تعمیر کرنے کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستانی حکام بین الاقوامی فنڈنگ کی شرائط سے مطمئن نہیں ہیں، جن کی وجہ سے ڈیم کے ابتدائی پانچ ارب ڈالر (تقریباً پانچ کھرب پاکستانی روپے) کے اخراجات کے بڑھ کر 14 ارب ڈالر (تقریباً 14 کھرب پاکستانی روپے) ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق واپڈا کے چیئرمین مزمل حسین کا کہنا تھا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے چینی شرائط پر عملدرآمد ممکن نہیں تھا۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے اس منصوبے کی فنڈنگ کے لئے ایک متبادل پلان کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا تھا کہ چین نے نئے ڈیم کی فنڈنگ کے لئے ایک موجودہ ڈیم پراجیکٹ کو بطور ضمانت پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ سود اور دیگر اخراجات کی ادائیگی اس کے علاوہ تھی۔ بھارتی اخبار کا کہنا ہے کہ دوسری جانب چینی ذرائع نے ان اطلاعات پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان کی جانب سے کوئی ایسا فیصلہ کیا گیا ہوتا تو چینی حکام کو ضرور اس کی خبر ہوتی۔ سابق بھارتی سفارتکار ایم کے بھدراکمار کا بھی اس سلسلے میں کہنا تھا کہ ”مجھے اس معاملے میں جھگڑے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ چین نے یہ بات پاکستان پر چھوڑی ہے کہ وہ دیامر بھاشا ڈیم کو ’ون بیلٹ ون روڈ‘ پراجیکٹ کے تحت بنانا چاہتا ہے یا نہیں، جبکہ چین کی جانب سے فنڈنگ فراہم کرنے کے معاملے میں زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی اصول و ضوابط کی پابندی بھی کی جا رہی ہے۔“

loading...