اشاعت کے باوقار 30 سال

دنیا میں ذیابیطس مرض میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے

دنیا میں ذیابیطس مرض میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے

اسلام آباد/کراچی: پاکستان میں 70 لاکھ افراد ذیابیطیس میں مبتلا ہیں جس کی وجہ واک نہ کرنا اور ٹائم پر خوراک نہ لینے سمیت فاسٹ فوڈ اور سافٹ ڈرنک کا بے تحاشہ استعمال ہے۔لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کے میڈیسن کے پروفیسر عمران علی شیخ اور دیگر ماہرین نے ذیابیطیس کے حوالے سے اعداد و شمار بیان کئے اور احتیاطی تدابیر بھی واضح کیں۔ انہوں نے کہا کہ 1998 کے نیشنل ڈائبیٹک سروے کے مطابق صوبہ سندھ کے دیہات کی 11 اعشاریہ 9 فی صد جب کہ 13 فی صد شہری آبادی شوگر کے مریضوں کی تھی اور 2017 کے اگست کے مہینے میں ہونے والے سروے کے مطابق سندھ کی 26 فیصد سے زائد آبادی ذیابطیس میں مبتلا ہے۔ سروے کے مطابق پاکستان کی موجودہ آبادی میں 70 لاکھ شہری ایسے ہیں جو مذکورہ مرض میں مبتلا ہیں جس کی وجہ فاسٹ فوڈ اور سافٹ ڈرنک کا بے تحاشہ استعمال اور ورزش نہ کرنے سمیت وقت پر کھانا نہ کھانا ہے۔ ماہرین کے مطابق 125 ایم ایل کی ایک سافٹ ڈرنک میں چینی کے 4 چمچ ہوتے ہیں جب کہ ایک برگر میں 380 کیلریز اور چھوٹی چپاتی میں 60 اور درمیانی میں 80 کیلریز موجود ہوتی ہیں، اس لئے ہمارے یہاں بھاری کیلریز والے برگر اور سافٹ ڈرنک کا استعمال ذیابیطیس ہونے کی اہم وجوہات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ذیابیطیس سے بچنے کے لئے کم سافٹ ڈرنک اور بار بی کیو اشیا کے استعمال کو ترک کرنا ہو گا اور روزانہ کھانے سے پہلے 20 منٹ یا ایک ہفتے میں 60 منٹ تیز واک کرنی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں اس وقت تک 70 لاکھ افراد شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں اور اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی تو سندھ میں چند سالوں میں یہ تعداد بڑھ کر ایک کروڑ سے زیادہ ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ذیابیطیس تیزی سے نہ صرف ترقی یافتہ ممالک بلکہ ترقی پذیر ممالک میں بھی بڑھ رہی ہے، اس کا تدراک صرف علاج کی صورت سے ہی ممکن نہیں بلکہ اس مرض سے متعلق پیچیدگیوں کی آگہی ہونا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوگر کے علاج کے ماہرین نے روزمرہ کے معمولات میں ورزش کو لازمی قرار دیا ہے تاکہ اس بیماری سے بچاؤ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ شوگر کی بیماری میں دوا کا اثر 10 سال تک رہتا ہے اس کے بعد مریض کو انسولین لینا پڑتی ہے۔ کسی وقت میں شوگر کی بیماری 30 سے 50سال کی عمر کے افراد میں ہوتی تھی لیکن اب یہ بیماری بچوں میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے، اس کی وجہ بچوں کا زیادہ وقت گھروں میں کمپیوٹر اور موبائل فون کا استعمال ہے۔ کسی وقت بچے گھر سے باہر مختلف کھیل کھیلا کرتے تھے جس سے ان کی ورزش ہوتی تھی لیکن اب ایسا نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں ساتویں نمبر پر ہے جس میں سب سے زیادہ شوگر کے مریض ہیں۔

loading...