اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

پاکستانی طالبان کو بڑا جھٹکا لگ گیا

پاکستانی طالبان کو بڑا جھٹکا لگ گیا

اسلام آباد: دہشتگردی کے خلاف پاک فوج کے کامیاب آپریشن نے شدت پسند تنظیموں کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ اب ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی تقسیم کا عمل تیز ہو رہا ہے اور یہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹتی جا رہی ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان بھی اسی انجام سے دوچار ہو کر متعدد دھڑوں میں بٹ گئی ہے، جو مزید تقسیم در تقسیم ہوتے جا رہے ہیں۔ نیوز کے مطابق طالبان کے دھڑوں میں بٹنے کی تازہ ترین مثال افغان صوبے ننگر ہار میں ایک دن قبل بننے والے نئے گروپ حزب الاحرار کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اتوار کے روز جاری کئے گئے ایک ویڈیو بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس نئے دھڑے کی سربراہی شدت پسند کمانڈر مکرم خان کرے گا۔ یہ شخص اس سے پہلے جماعت الاحرار گروپ کا ایک اہم کمانڈر اور ترجمان تھا، لیکن اب اس نے اپنا علیحدٰہ دھڑا بنا لیا ہے۔ ویڈیو بیان میں بتایا گیا ہے کہ مکرم خان کے جماعت الاحرار گروپ سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں جس کی بنیادی یہ تھی کہ جماعت الاحرار معصوم شہریوں اور اقلیتوں پر حملوں اور بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان جیسے جرائم میں ملوث ہو چکی تھی۔ جماعت الاحرار کی بنیاد 2014ء میں عمر خالد خراسانی نے تحریک طالبان پاکستان سے علیحدہ ہونے کے بعد رکھی تھی۔

loading...