اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

استعفیٰ مرضی سے دیا، جلد لبنان واپس جاؤں گا

استعفیٰ مرضی سے دیا، جلد لبنان واپس جاؤں گا

ریاض: لبنان کے سبکدوش وزیر اعظم سعد حریری کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے تحفظ کی خاطر استعفیٰ دیا اور آئندہ چند دنوں میں سعودی عرب سے واپس لبنان لوٹ جائیں گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ان پر کوئی دباؤ نہیں۔ وہ اپنی مرضی سے وہاں رکے ہوئے ہیں۔ استعفیٰ انہوں نے اپنی مرضی سے دیا ہے۔ ایک دن پہلے ہفتے کو لبنان کے صدر نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ریاض میں ایک ہفتہ قبل مستعفی ہونے والے لبنانی وزیر اعظم سعد حریری کی صورتحال کے بارے میں وضاحت کرے۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سعد حریری نے فیوچر ٹی وی کو بتایا کہ’ وہ آزاد ہیں اور بہت جلد لبنان واپس چلے جائیں گے۔‘ سعد حریری نے ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’میں نے استعفیٰ دیے دیا ہے اور میں بہت جلد لبنان واپس جا رہا ہوں اور وہاں آئینی طریقے سے مستعفی ہوں گا۔‘ انٹرویو میں سعد حریری نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا کہ وہ سعودی عرب کے دباؤ یا دھمکی کی وجہ یہ سب کر رہے ہیں۔ سعد حریری نے اعتراف کیا کہ انھوں نے معمولی حالات میں استعفیٰ نہیں دیا اور وہ چاہتے تھے کہ ان کے ملک کو ایک ’مثبت صدمہ‘ پہنچے۔ خیال رہے کہ لبنان کے صدر میشال عون نے ابھی تک سعد حریری کا استعفیٰ قبول نہیں کیا ہے۔ سعد حریری نے رواں ماہ کے شروع میں اپنی زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر شدید تنقید کی تھی اور اس اعلان کے بعد سے منظرعام پر نہیں آئے تھے جس کے بعد ایران اور لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے سعد حریری کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر ہم جنگوں میں الجھ گئے تو خلیجی ملکوں میں مقیم چار لاکھ لبنانیوں کا کیا بنے گا؟ سعد حریری نے اپنے انٹرویو میں سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے کردار کی تحسین کی اور کہا کہ دونوں شخصیات نے انہیں بے حد احترام اور عزت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہ سلمان اپنے بیٹوں کی طرح میرا خیال رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لبنان میں استحکام اور اس کی خوش حالی شاہ سلمان اور ولی عہد کی شدید خواہش ہے۔ سعد حریری نے کہا کہ سنہ 2006ء کو اسرائیل کی طرف سے لبنان پر مسلط کی گئی جنگ میں سب سے زیادہ مددد سعودی عرب کی طرف سے کی گئی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے ذاتی مفاد نہیں بلکہ ملک و قوم کا مفاد زیادہ عزیز ہے۔ میں نے ملک وقوم کے وسیع تر مفاد میں وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔

loading...