اشاعت کے باوقار 30 سال

صرف سانس کے ذریعے 17 بیماریوں کی کم خرچ شناخت

صرف سانس کے ذریعے 17 بیماریوں کی کم خرچ شناخت

تل ابیب: ہماری سانس میں کئی امراض کے سالمات پائے جاتے ہیں جنہیں حساس آلات کے ذریعے شناخت کیا جا سکتا ہے تاہم امریکی اور اسرائیلی ماہرین نے جداگانہ طور پر ایسے آلات تیار کیے ہیں جو صرف سانس کے ذریعے 17 مختلف امراض کی شناخت کر سکتے ہیں۔
اسرائیلی سائنس دانوں نے ایک سادہ آلہ تیار کیا ہے جو کسی مرض کے شکار انسان کے سانس میں چھپے کیمیکلز شناخت کر سکتا ہے جب کہ دوسری طرف امریکی ماہرین نے ملاوی میں ملیریا کو سانس کے ذریعے بھانپنے کے ایک نظام کی آزمائش شروع کر دی ہے۔ ابھی یہ سانس کے ذریعے مرض شناخت کرنے کی ابتدا ہے لیکن بہت جلد سانس سے مرض بھانپنے والے آلات عام دستیاب ہوں گے۔ آلے کی قیمت 100 سے 200 ڈالر یعنی 10 سے 20 ہزار روپے تک ہو سکتی ہے لیکن ایک آلے کو ہزاروں مرتبہ، بار بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ دونوں نظام صحت مند شخص اور کسی مریض کی سانس کو شناخت کر کے اس کا موازنہ صحت مند سانس کی کیمیائی ترکیب سے کرتے ہیں اور کسی بیماری کی اطلاع دیتے ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی ایجاد فوری طور دستیاب نہیں لیکن ماہرین پُرامید ہیں کہ بہت جلد یہ عام دستیاب ہو گی اور مریضوں میں فوری اور کسی تکلیف کے بغیر مرض کی موجودگی یا عدم موجودگی کی تصدیق کر سکے گی۔ ہماری سانس میں بہت سے امراض کی نشانیاں ہوتی ہیں اور اسی بنا پر تربیت یافتہ کتے کینسر سے لے کر مرگی تک شناخت کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسرائیلی ماہرین نے جو آلہ تیار کیا ہے اسے ’نے نوز‘ کا نام دیا ہے جس کے معنی ’نینو ذرات والی ناک‘ کے ہیں جو سانس میں چھپی ایک درجن سے زائد بیماریاں شناخت کر سکتا ہے جن میں پارکنسن، کینسر اور دیگر امراض شامل ہیں جب کہ اس آلے کی درستگی 86 فی صد تک نوٹ کی گئی ہے۔
دوسری جانب یونیورسٹی آف واشنگٹن کی پروفیسر اوڈرے اوڈم جان نے ایسی ہی ایک ٹیکنالوجی سے ملیریا شناخت کرنے کا کام لیا ہے جب کہ اس کی درستگی کا معیار 83 فی صد تک بتایا جا رہا ہے۔ روایتی طور پر خون کے ٹیسٹ 90 سے 95 فی صد درستگی سے ملیریا شناخت کر لیتے ہیں۔ اس لحاظ سے سانس کا آلہ بہت بہتر اور مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر اوڈرے کی ٹیم اسے تجرباتی طور پر افریقہ کے ایک غریب ملک ملاوی میں آزما رہی ہے۔ اس میں ایک حساس اسپیکٹرومیٹر لگا ہے جو سانس میں موجود کیمیکلز شناخت کر کے مرض کا پتا لگا لیتا ہے۔ ڈاکٹر اوڈرے کے مطابق ملیریا کی بعض اقسام خون کے ٹیسٹ میں نہیں آ پاتیں کیونکہ مریضوں میں اس کا پروٹین مختلف ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب غریب افریقی ممالک میں اکثر خون کے ذریعے ملیریا کی شناخت کا انفراسٹرکچر موجود نہیں جس میں تربیت یافتہ عملہ، خون رکھنے کے لیے ریفریجریٹر اور جدید خوردبین وغیرہ شامل ہیں۔

loading...