اشاعت کے باوقار 30 سال

کشمیر کا مسئلہ حل کرو مجھے پاکستان جانا ہے

کشمیر کا مسئلہ حل کرو مجھے پاکستان جانا ہے

ممبئی: بھارتی اداکار رشی کپور سوشل میڈیا میں کافی 'ان' رہتے ہیں۔ خاص طور پر اپنے ٹویٹس کی وجہ سے انھیں اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی یہ تنقید ان پر پاکستانی کرتے ہیں اور کبھی خود ہم وطن انھیں آڑے ہاتھوں لے لیتے ہیں۔ اس بار انھوں پاکستان کے زیر انتظام اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی ملکیت پر ایک ٹویٹ کی جسے 19 گھنٹوں کے دوران ساڑھے چھ ہزار لوگوں نے پسند کیا، 12 سو نے ری ٹویٹ کیا اور 27 سو افراد اس پر کمنٹ کر کے بحث میں شامل ہو گئے۔ رشی کپور نے اپنے ٹویٹ کا آغاز ’سلام‘ سے کیا اور اختتام ’جے ماتا دی‘ سے۔ انھوں نے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ 'فاروق عبداللہ جی سلام، میں آپ سے بالکل متفق ہوں۔ جموں اور کشمیر ہمارا، اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر ان کا ہے۔ یہی واحد طریقہ ہے اپنے مسئلے کو حل کرنے کا۔ اسے تسلیم کر لیں، میں 65 برس کا ہو گیا ہوں اور میں مرنے سے قبل پاکستان دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے بچے اپنے آبائی علاقے کو دیکھیں۔ بس کروا دیجئے۔ جے ماتا دی!'۔ کمنٹ کرنے والوں میں اکثریت نے ان پر تنقید کی اور رشی کپور کو مزید 'پیگ' لگا کر سو جانے کا مشورہ دیا۔ انڈیا اور پاکستان سے چند افراد نے اس بات پر اتفاق کیا پاکستان اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیری علاقوں میں امن قائم ہونا چاہیے۔ اس پر وقاص امجد نے لکھا کہ وہ پاکستانی ہیں اور دونوں کشمیری علاقوں کو آزاد ریاستیں ہونا چاہیے۔ انھوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں فورس موجود نہیں لیکن جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ وہاں لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق ملنے چاہییں۔ ابھیشیک پانڈے نے جوابی ٹویٹ کی کہ 'اگر آپ کے بچے پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں تو ہم کشمیر پاکستان کو دے دیں؟ آپ کی طرح فالتو سوچ نہیں رکھتے۔ ایسے تو پورا سندھو علاقہ ہی ہمارا ہے تو کیوں نہ پاکستان کو ہی واپس لے لیں۔' پوروما نے ٹویٹ کیا کہ کشمیر آپ کی مادرِ وطن پاکستان کو تحفہ میں دینے کے معاملے میں کوئی ریفرینڈم ہوا ہے؟ آپ پاکستانی فلموں میں ہی کیوں نہیں کام کر لیتے؟ بختاور اکرام نے انہیں پاکستان آنے لیے ہر وقت خوش آمدید کہا۔ ناریش گپتا وہ شخص ہیں جو انڈین ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ رشی کپور کے خیالات سے متفق ہیں اور وہ بھی اس دنیا سے جانے سے پہلے پاکستان جانا چاہتے ہیں۔ انھیں پاکستان سے کسی نے خوش آمدید کہا ہے۔ پاکستان سے احمد گل نے ایک دلچسپ ٹویٹ کی۔ انھوں نے لکھا 'ہم بھی تاج محل دیکھنا چاہتے ہیں۔ پوری دنیا اسے دیکھ سکتی ہے سوائے آپ کے پڑوسی کے۔ افسوس۔' پاکستان کے علاقے کوہاٹ کے ایک سابق بینکر انور سادات نے ٹویٹ کیا کہ انھوں نے حال ہی میں قصہ خوانی کے علاقے میں رشی کپور کے آباء و اجداد کے گھر کا دورہ کیا ہے اور اس دوران کئی خیالات ان کے ذہن میں آئے۔ آلوک گپتا نے رشی کپور کی ٹویٹ کو زیادہ سنجیدگی سے لے لیا اور ٹویٹ کی 'آپ کا فین تھا لیکن آپ کے خیالات دیکھ کر دکھ ہوا۔ آپ کو ان فولو کر رہا ہوں اور کبھی آپ کی فلم نہیں دیکھوں گا۔ ویسے سوچیں کہ اگر آپ کی املاک پر کوئی قبضہ کر لے تو کیا آپ اسے چھوڑ دیں گے یا اس کے حصول کے لیے لڑیں گے؟' ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی طرح انڈیا میں بھی ماہرہ خان اور رشی کپور کے صاحبزادے رنبیر کپور کی تصاویر کو بھلایا نہیں جا سکا ہے اور اس پر اب بھی بات ہو رہی ہے۔ رشی کپور کے ٹویٹ پر کئی انڈین شہریوں نے مختلف انداز سے ماہرہ خان اور رنبیر کپور کا ذکر کیا اور رشی کپور کے پاکستان جانے کی خواہش کو اپنی اپنی سمجھ کے مطابق معانی پہنانے کی کوشش کی۔

loading...