اشاعت کے باوقار 30 سال

ادائیگیوں کا بگڑتا ہوا توازن معیشت کے لئے بڑا خطرہ ہے

ادائیگیوں کا بگڑتا ہوا توازن معیشت کے لئے بڑا خطرہ ہے

کراچی: ورلڈ بینک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ادائیگیوں کا بگڑتا ہوا توازن معیشت کے لئے بڑا خطرہ ہے تاہم معاشی عدم توازن کے باوجود پاکستان کی معیشت میں نمو کا عمل جاری رہے گا۔ ورلڈ بینک نے پاکستان کی معاشی ترقی کے بارے میں ششماہی رپورٹ ’’پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ‘‘ جاری کر دی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق معاشی عدم توازن کے باوجود پاکستان کی معیشت میں نمو کا عمل جاری رہے گا تاہم ادائیگیوں کا بگڑتا ہوا توازن معیشت کے لئے بڑا خطرہ ہے، مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانے کے لئے موثر معاشی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح نمو مالی سال 2019 تک 5.8 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، ترسیلات کی آمد میں بہتری اور الیکشن کے دوران حکومتی اخراجات سے اشیا کی طلب میں اضافہ ہو گا، مقامی طلب میں اضافہ اور بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے سال 2018 اور 2019 میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو گا اور اس کے 7 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے، سال 2018 میں افراط زر کی شرح 6 فیصد رہے گی۔ ورلڈ بینک کے مطابق توازن ادائیگی پر دباؤ کی صورتحال چند سال برقرار رہے گی۔ رپورٹ کے مطابق ریئل ایفکٹیو ایکس چینج ریٹ اور برآمدات میں گہرا تعلق ہے، حقیقی اور موثر ایکس چینج ریٹ پاکستان کو تجارتی خسارہ کم کرنے میں مدد دے گا۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستانی روپے کی قدر میں کمی سے اگرچہ افراط زر اور قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں قدرے اضافہ ہو گا تاہم روپے کی قدر میں معتدل کمی مجموعی طور پر معاشی نمو کے لئے سود مند ثابت ہو گی۔ ورلڈ بینک کے مطابق ٹیکس نیٹ اور ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے زری فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں تاہم اس مقصد کے لیے طویل مدتی اقدامات کے ساتھ قلیل مدتی اقدامات بھی ناگزیر ہیں، اگرچہ وفاق اور صوبوں کی سطح پر ٹیکس اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو مالی سال 2011 کی 9.5 فیصد کی سطح سے بڑھ کر مالی سال 2016 میں 12.4 فیصد کی سطح پر آ چکا ہے تاہم اس تسلسل کو جاری رکھنے اور ٹیکس وصولیوں میں پائیدار بنیادوں پر اضافے کے لیے ٹیکس نظام میں دوسرے مرحلے کی اصلاحات ناگزیر ہیں جن میں ٹیکس بیس میں اضافہ، ٹیکس قوانین کے موثر نفاذ اور ٹیکسوں کے نظام اور ادائیگی پر اٹھنے والی لاگت میں کمی جیسے اقدامات شامل ہیں، ان مقاصد کے حصول کے لیے ٹیکس پالیسی کا از سر نو اور موثر جائزہ لینا ہو گا اور ٹیکسوں کے نظام کو غیرجانبدار اور شفاف بنانا ہو گا۔

loading...