اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

اسموگ کا حل ڈھونڈ لیا گیا

اسموگ کا حل ڈھونڈ لیا گیا

دہلی: بھارت اس وقت زیریلی گیسوں اور شدید اسموگ کی لپیٹ میں ہے جس نے شہریوں کی زندگی عذاب بنا کر رکھ دی ہے تاہم اب نئی دہلی حکومت نے اس مسئلے کا حل ڈھونڈ لیا ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان اور بھارت میں زہریلی گیسوں، دھند اور اسموگ کا راج بڑھ جاتا ہے جس کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوتے ہیں یہاں تک کہ لوگوں کا گھر سے باہر نکلنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ صورت حال اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک بارش نہیں ہو جاتی ۔ لاہور سمیت پاکستان کے متعدد علاقوں میں دھند اور اسموگ نے شہریوں کا جینا عذاب بنا کر رکھ دیا ہے تاہم بھارت میں صورت حال پاکستان سے بھی زیادہ خراب ہے۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں اسموگ اور ہوا میں موجود زہریلی گیسوں کے باعث صورت حال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔ حد نگاہ صفر ہو گئی ہے یہاں تک کہ لوگوں کا سانس لینا بھی محال ہو گیا ہے، اسموگ کے باعث مختلف بیماریاں بھی لوگوں پر حملہ آور ہو گئی ہیں۔ حکام نے یہ کہتے ہوئے ہاتھ کھینچ لیے تھے کہ بارش کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ انتظامیہ کی جانب سے بغیر ماسک لگائے لوگوں کو باہر نکلنے سے منع کیا گیا ہے لیکن ماسک مستقل حل نہیں ہے لہٰذا اب بھارتی حکومت نے اسموگ سے چھٹکارہ پانے کا حل تلاش کر لیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں مصنوعی بارش کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ مصنوعی بارش کے ذریعے ہوا میں موجود مٹی اور زہریلا دھواں کسی حد تک کم کرنے میں مدد ملے گی جب کہ شہری بھی سکون کی سانس لے سکیں گے۔ ماحولیات کے وزیر رتیش کمار سنگھ نے بھارت کی دیگر ریاستوں کے وزرا اور سول سرونٹس سے ملاقات کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ مصنوعی بارش کے لیے فائر ٹرک استعمال کیے جائیں گے۔ ماحولیاتی تحفظات کے ادارے سے تعلق رکھنے والی شروتی بھاردواج کا کہنا ہے کہ صرف مصنوعی بارش ہی اس مسئلے کا حل ہے اور پانی کے اسپرے سے زہریلی گیسوں اور آلودگی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی اور اس سے سرمئی رنگ کی اسموگ سے چھٹکارہ مل جائے گا جس نے گزشتہ 4 دنوں سے دہلی کی فضاؤں میں ڈیرہ جما کر رکھا ہوا ہے۔

loading...