اشاعت کے باوقار 30 سال

شہزادہ ولید بن طلال کو رہا کرنے کا فیصلہ

شہزادہ ولید بن طلال کو رہا کرنے کا فیصلہ

ریاض: سعودی حکومت نے کرپشن کے الزام میں گرفتار ارب پتی شہزادے ولید بن طلال سمیت 7 اعلیٰ عہدیداروں کو رہا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سعودی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ارب پتی سعودی شہزادے ولید بن طلال سمیت جن 7 افراد کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کیا جا رہا ہے۔سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر کے حوالے سے سعودی میڈیا کا کہنا ہے کہ کرپشن سمیت دیگر معاملات میں گرفتار 208 ملزمان میں 7 کو ان الزامات میں عدم ثبوت پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق رہائی پانے والوں میں سابق وزیر خزانہ ابراہیم العساف، شہزادہ ترکی بن ناصر، شہزادہ فہد بن عبداللہ، شاہی محل کے نگراں خالد التویجری، سابق وزیر متعب بن عبداللہ اور ان کے بھائی بھی شامل ہیں۔ سعودی پراسیکیوٹر جنرل سعود المعجب کے مطابق مذکورہ ملزمان پر ایک کھرب ڈالر خرد برد کا الزام تھا، لیکن ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے ان 7 ملزمان کو رہا کیا جا رہا ہے۔

loading...