اشاعت کے باوقار 30 سال

ڈاکٹر فاروق ستار کا سیاست اور پارٹی کی صدارت چھوڑنے کا اعلان

ڈاکٹر فاروق ستار کا سیاست اور پارٹی کی صدارت چھوڑنے کا اعلان

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے سیاست اور پارٹی کی صدارت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ یہ اعلان انہوں نے جمعرات کی شب اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ ہونے والی کے مفاہمت کے بعد کارکنان اور رابطہ کمیٹی کے ردعمل کے تناظر میں کیا، تاہم جیسے ہی انہوں نے سربراہی چھوڑنے کا اعلان کیا کارکنان نے نامنظور نامنظور کے نعرے لگانے شروع کر دیئے، تاہم ڈاکٹر فاروق ستار نے استعفیٰ واپس لینے سے انکار کر دیا اور رابطہ کمیٹی کے اراکین سے گلہ کیا کہ اگر ان کو ان سے شکایت تھی تو وہ ان کے سامنے بات کرتے تاہم رابطہ کمیٹی کے ارکان نے ان کو گھیر لیا اور ان سے استعفیٰ واپس لینے کی درخواست کرتے رہے اس موقع پر کارکنان بھی ایک دوسرے سے الجھ پڑے۔ کچھ کارکنان کا اصرار تھا کہ ڈاکٹر فاروق ستار کا استعفیٰ منظور کیا جائے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ وہ ہفتے کو یادگار شہداء عزیز آباد جائیں گے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ بدھ کو کراچی پریس کلب میں ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کے رہنماؤں کی مشترکا پریس کانفرنس کے دوران مہاجروں کی تذلیل کی گئی، انہوں نے کہا کہ پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال نے باریک کام کیا، میری لینڈ کروزکر پر سوال اٹھانے والے مصطفی کمال پہلے اپنی لینڈ کروزر کا حساب دیں اور یہ بھی بتائیں کہ انہیں ڈیفنس کراچی میں آفس کے لیے بنگلہ کس نے دیا، ہم پاکستان میں پاکستان کی سیاست کے لیے کھڑے ہوئے ہیں، میری تہذیب اور تربیت اس بات کی اجازت نہیں دیتی ورنہ میں مصطفی کمال کے ہاتھ سے مائیک لے کر وضاحت کر دیتا۔ ایم کیو ایم 22 اگست تک ضرور الطاف حسین کی تھی مگر 22 اگست کے بعد یہ نہ میری ہے نہ کسی اور کی بلکہ یہ پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کی ہے ہم پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والے ہیں۔ الطاف حسین کی دشمنی میں اتنا آگے نہ جائیں کہ مہاجروں کے مینڈیٹ کی تذلیل کریں آپ کا غصہ الطاف حسین پر ہے اس مہاجروں پر نہ اتاریں۔ مصطفی کمال نے جو پریس کلب میں بات کی وہ ان کا منشور ہو سکتا ہے مگر ہمارا نہیں ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کیسے بھلائیں ایم کیو ایم یہیں پر ہے اور یہیں رہے گی وہ کہیں نہیں جا رہی اگر وہ کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم سے بات ہی نہیں کر سکتے تو پھر وہ کچھ سے کس حیثیت سے بات کر رہے تھے۔ پچھلے چھ ماہ میں جو کچھ ہوتا رہا ہے اس پر میں نے ایک خط وزیر اعظم پاکستان، چیف جسٹس سپریم کورٹ، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بھیجا ہے۔ میرا یہ گلہ ہے انیس قائم خانی سے کہ کل ہمارا دل دکھا۔ پی ایس پی اگر پاکستان کی سیاست کی بات کرتی ہے تو وہ ایک سیٹ لاہور یا پشاور سے جیت کر دکھا دے ہم خود ایم کیو ایم کو دفن کردیں گے،ہم لندن کو کیوں چھوڑا؟ پاکستان کے لیے چھوڑا ہم تشدد کی سیاست اور الطاف حسین سے علیحدہ ہوئے مگر ہم اپنے شہداء کی قربانیوں سے علیحدہ نہیں ہوئے۔

loading...