اشاعت کے باوقار 30 سال

ایک ہی دن میں فاروق ستار کا یو ٹرن

ایک ہی دن میں فاروق ستار کا یو ٹرن

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کہا ہے کہ مہاجر پاکستان بنانے والوں کی اولادیں ہیں، پاکستان میں مڈل کلاس کی سیاست صرف ایم کیو ایم نے کی، 22 اگست تک ایم کیو ایم ضرور الطاف حسین کی تھی، 22 اگست کے بعد ایم کیو ایم الطاف حسین کی نہیں رہی، مصطفی کمال نے میرے سامنے بیٹھ کر تند و تیز لہجے میں کہہ رہے تھے ایم کیو ایم سے بات نہیں ہو سکتی، آپ پی ایس پی بنائیں یا حقیقی شہدا کو کیسے بھلا سکتے ہیں؟ کیسے اس پارٹی سے انضمام کر سکتے ہیں جو مہاجروں کو مانتی ہی نہیں، ایم کیو ایم پاکستان کی قومی اسمبلی کی چھوتھی بڑی جماعت ہے اور سینٹ میں تیسری بڑی جماعت ہے، انتخابات میڈیا 2018ء کے انتخابات سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کی جائیداد کا تقابلی جائزہ پیش کرے، بیرون ملک جن کی جائیدادیں ہیں وہ 2018 سے پہلے پیش کریں، پی ایس پی اگر پاکستان کی سیاست کر رہی ہے تو پشاور سے کراچی تک ایک سیٹ جیت کر دکھائے، پی ایس پی ایک سیٹ بھی جیت گئی تو ایم کیو ایم کو خود دفن کر دیں گے۔ جمعرات کے روز کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ پاکستان فاروق ستار نے کہا کہ قومی اسمبلی کے مطابق چوتھی بڑی جماعت کا سربراہ ہوں، سینیٹ میں ایم کیو ایم پاکستان تیسری بڑی جماعت ہے، ایم کیو ایم پاکستان شہری آبادی کی سب سے بڑی جماعت ہے، 8 اگست 1986 کے نشتر پارک کے جلسے سے ایم کیو ایم عوامی جماعت بنی، ایم کیو ایم سے 1978ء سے وابستہ ہوں، 38 سالہ سیاسی زندگی عوام کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، ایم کیو ایم نے تمام انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا 2018ء کے انتخابات سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کی جائیداد کا تقابلی جائزہ پیش کرے، بیرون ملک جن کی جائیدادیں ہیں وہ 2018 سے پہلے پیش کریں، میرا ایک ہی بینک اکاونٹ ہے، مصطفیٰ کمال نے کل باریک کام کیا، مصطفی کمال نے لینڈ کروزر کی بات کی ، میری گاڑی بھی اپنی نہیں ہے، مصطفیٰ کمال کی لینڈ کروزر نئی ہے، گاڑی کی بلٹ پروفنگ کے 40 لاکھ روپے خواجہ سہیل منصور نے دیے، مجھے اپنی گاڑی کے سترہ لاکھ روپے اب بھی ادا کرنے ہیں، جن سے گاڑی خریدی ان بیچاروں نے بھی پلٹ کر نہیں کہا کہ بھائی پیسے کب دیں گے، مصطفیٰ کمال کے ساتھ دوسرے رہ نما کی گاڑی 3 کروڑ سے زیادہ ہے، مجھے علم ہے کہ مصطفیٰ کمال کی گاڑی کہاں سے خریدی گئی ہے، میں نے سرکاری پوزیشن ہوتے ہوئے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا۔ فاروق ستار نے کہا کہ بدھ کے روز مہاجروں کے مینڈیٹ کی تذلیل ہوئی، ہم مہاجروں کی بقا اور سلامتی کے لیے سیاست کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس وقت بلٹ پروف گاڑی دی گئی جب 2013 کے الیکشن میں طالبان سے خطرہ تھا، مصطفیٰ کمال اپنی گاڑی کا حساب دیں، 17 لاکھ میں مجھے 90 لاکھ کی گاڑی ملی، 5 لاکھ روپے بانی متحدہ کی اجازت سے پارٹی سے لیے، مصطفیٰٰ کمال نے پارٹی کے دیے گھر کی رقم نہیں لوٹائی، مصطفیٰ کمال بتائیں خیابان سحر کا گھر، آفس کیسے آیا، مصطفی کمال کے پاس 17 گاڑیاں کہاں سے آئیں؟ میں پانچویں بار ایم این اے ہوں، 1968 سے ایک گھر کا مالک ہوں میرے والد نے 25 ہزار روپے سے گھر خریدا تھا جس میں آج میں رہ رہا ہوں، اس گھر میں میرے 3 بیٹے بھی مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1992 کے آپریشن کے بعد بھاگ کر نہیں گیا ملک میں ہی رہا، خود پر ایک بھی مقدمہ این آر او سے ختم نہیں کرایا، عدالتوں میں سامنا کیا، میں جس سیل میں تھا اس میں تین طرف دیواریں ایک طرف دروازہ تھا، خود کو آج احتساب کی لیے پیش کیا، میرے سیاسی سفر میں یہ اہم دن ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ کراچی ہو یا پاکستان انجینیرز سیاست نہیں چل سکتی، ہم پاکستان کے اندر پاکستان کی سیاست کرنے کھڑے ہوئے ہیں، ہم پاکستان زندہ باد کے نعرے کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ فاروق ستار نے مصطفی کمال پر تنقید کرتے ہوئے شعر پڑا ’’اوقات نہیں ہے آنکھ سے آنکھ ملانے کی، دعویٰ کر رہا ہے نادان نام مٹانے کی‘‘ انہوں نے کہا کہ اپنی تاریخ مٹا دیں گے؟ اپنے شہدا کی قربانیوں کو کیسے بھلا دیں، 30 سال آپ نے بھی انہی لوگوں کے ساتھ سیاست کی، مصطفیٰ کمال سے مائیک لے کر لینڈ کروزر کا جواب کل ہی دے دیتا، بانی کی دشمنی میں اتنے آگے نہ جائیں کہ جمہوریت، مہاجروں کے مینڈیٹ کی تذلیل ہو، 23 اگست کے بعد ایم کیو ایم میری ہے نا تیری ہے، پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کی ہے، ہم مہاجر پاکستان بنانے والوں کی اولادیں ہیں، پاکستان میں مڈل کلاس کی سیاست صرف ایم کیو ایم نے کی، 22 اگست تک ایم کیو ایم ضرور الطاف حسین کی تھی، 22 اگست کے بعد ایم کیو ایم الطاف حسین کی نہیں رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصطفی کمال نے میرے سامنے بیٹھ کر تند و تیز لہجے میں کہہ رہے تھے ایم کیو ایم سے بات نہیں ہو سکتی، آپ پی ایس پی بنائیں یا حقیقی شہدا کو کیسے بھلا سکتے ہیں، کل میرے ساتھی جو سوشل میڈیا پر تھے وہ زار و قطار رو رہے تھے، ایم کیو ایم پاکستان برقرار رہے گی کہیں نہیں جا رہی، انیس قائم خانی سے صرف ایک بار ملا، تاثر دیا جا رہا ہے کہ پتا نہیں کتنی ملاقاتیں ہوئی، 6 مہینے کی تفصیل میں جانا ہے تو یہ حصہ راز میں رکھا ہے، کہیں پر مصطفی ٰکمال بھائی کے ساتھ اکیلا نہیں ملا ہوں، انیس قائم خانی سے گلہ ہے کہ ہم کل کیا جذبہ لے کر گئے تھے اور ہمیں کیا صلہ ملا، وہ 6 مہینے کی تفصیل میں جانا چاہتے ہیں تو وہ خط بھی ظاہر کروں گا، آج ایک خط وزیر اعظم اور آرمی چیف کو بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ارکان اسمبلی پنجابی ہیں، پختون ہیں بلوچ ہیں، میں بکا نہیں جھکا نہیں، ڈٹے ہوئے ہیں ’’محاذ پر مجھے ان صفوں میں تلاش کر۔ چھپ چھپ کے کھڑا نہیں‘‘ چیلنج کرتا ہوں لاہور یا پشاور سے پی ایس پی ایک سیٹ جیت کر بتا دے، وہ کہتے ہیں پاکستان کی سیاست کر رہے ہیں تو لاہور یا پشاور سے سیٹ جیت کر دکھائیں، تم لاہور یا پشاور سے جیت گئے تو ایم کیو ایم کا جھنڈا خود دفن کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لندن، بانی متحدہ سے علیحدہ ہوئے، اپنے شہدا کی قربانیوں سے نہیں، ملک کی سیاست کرنے والی پی ایم ایل این کی کراچی میں ایک سیٹ نہیں، پاکستان کی خاطر جانوں کی قربانی دینے والے سے اپنا تعلق کیسے ختم کریں؟ کیسے اس پارٹی سے انضمام کر سکتے ہیں جو مہاجروں کو مانتی ہی نہیں۔

loading...